صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 165 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 165

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۱۶۵ ۶۵ - كتاب التفسير / الرحمن وَ رَبُّ الْمَغْرِبَيْنِ (الرحمن : ۱۸) مَغْرِبُهَا فِي رَبُّ الْمَغْرِبَيْنِ (سے بھی دو مغرب مراد ہیں) الشَّتَاءِ وَالصَّيْفِ لَا يَبْغِينِ (الرحمن: (۲۱) ایک سورج کے ڈوبنے کی وہ جگہ جو جاڑے میں لَا يَخْتَلِطَانِ الْمُنْشَتُ (الرحمن: ٢٥) مَا ہوتی ہے اور دوسری گرمی میں۔ لَا يَبْغِينِ رُفِعَ قِلْعُهُ مِنَ السُّفْنِ فَأَمَّا مَا لَمْ يُرْفَعْ کے معنی ہیں وہ آپس میں نہیں ملتے۔ المُنشَتُ قَلْعُهُ فَلَيْسَ بِمُنْشَأَتِ۔ وَقَالَ مُجَاهِدٌ یعنی وہ بڑی کشتیاں جن کے بادبان اوپر اٹھائے گئے ہوں۔ اور جن کے بادبان نہ اٹھائے گئے كَالْفَخَّارِ (الرحمن: ١٥) كَمَا يُصْنَعُ الْفَخَارُ۔ ہوں تو وہ منشأت نہیں ہیں۔ اور مجاہد نے کہا: السُّوَاظٌ لَهَبٌ مِّنْ نَّارٍ۔ وَقَالَ مُجَاهِدٌ گالْفَخَارِ یعنی جیسے ٹھیکر ابنایا جاتا۔ میکر ابنایا جاتا ہے۔ الشواظ سے ونحاس (الرحمن: ٣٦) النُّحاس مراد ہے آگ کا شعلہ ۔ اور مجاہد نے کہا: نحاس الصُّفْرُ يُصَبُّ عَلَى رُءُوسِهِمْ يُعَذِّبُونَ سے مراد وہ پیتل ہے جو ( پگھلا کر ) دوزخیوں کے بِهِ۔ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ (الرحمن: ٤٧) يَهُم سر پر ڈالا جائے گا، اس سے ان کو سزادی جائے بِالْمَعْصِيَةِ فَيَذْكُرُ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ گی۔ خَافَ مَقَامَ رَبَّہ سے یہ مراد ہے کہ وہ فَيَتْرُكُهَا ۔ مُنْهَا متن (الرحمن: ٦٥) نافرمانی کرنے کا ارادہ کرتا ہے اور پھر وہ اللہ عز وجل سَوْدَاوَانِ مِنَ الرِّيِّ۔ صَلْصَالِ کو یاد کر کے اس (نافرمانی) کو چھوڑ دیتا ہے۔ (الرحمن: ١٥) طِينٌ خُلِطَ بِرَمْلٍ فَصَلْصَلَ مُدهامتن کے معنی ہیں شادابی کی وجہ سے كَمَا يُصَلْصِلُ الْفَخَارُ وَيُقَالُ مُنْتِنٌ نہایت ہی گہرے سبز ہو رہے ہیں۔ صلصال کے معنی ہیں وہ گارا جس میں ریت ملائی جائے اور وہ يُرِيدُونَ بِهِ صَلَّ يُقَالُ صَلْصَالٌ كَمَا کھنکھنانے لگے، جیسے ٹھیکری کھنکھناتی ہے۔ اور يُقَالُ صَرَّ الْبَابُ عِنْدَ الْإِخْلَاقِ صلصال کے معنی بد بودار کیچڑ بھی کئے جاتے ہیں۔ وَصَرْصَرَ مِثْلُ كَبْكَبْتُهُ يَعْنِي كَبَبْتُهُ۔ ان کی مراد یہ ہوتی ہے کہ یہ صل سے نکلا ہے یعنی فِيهِمَا فَاكِهَةٌ وَنَخْلُ وَرُمَّانَ (الرحمن: ٦٩) وہ سڑ گیا۔ اسی سے صلصال کہتے ہیں، جیسے کہا جاتا قَالَ بَعْضُهُمْ لَيْسَ الرُّمَّانُ وَالنَّخْلُ ہے : صَرَ الْبَابُ عِنْدَ الْإِخْلَاقِ یعنی بند کرنے کے بِالْفَاكِهَةِ وَأَمَّا الْعَرَبُ فَإِنَّهَا تَعُدُّهُمَا وقت دروازے نے آواز دی۔ اور صرصر ہے فَاكِهَةً كَقَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ حَفِظُوا عَلَی جیسے کہتے ہیں: کب کبتہ یعنی میں نے اس کو اوندھا