صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 164
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۱۶۴ ۶۵ - كتاب التفسير / الرحمن ٥٥ سُورَةُ الرَّحْمنِ وَقَالَ مُجَاهِدٌ: بِحُسبان (الرحمن: ٦) اور مجاہد نے کہا: بحسبان کے معنی ہیں چکی کی طرح كَحُسْبَانِ الرَّحَى وَقَالَ غَيْرُهُ وَأَقِيمُوا گھوم رہے ہیں۔ اور ان کے سوا اوروں نے کہا: الْوَزْنَ (الرحمن: ١٠) يُرِيدُ لِسَانَ الْمِيزَانِ وَأَقِيمُوا الْوَزْن یعنی تراز و وا ترازوؤں کی زبان سیدھی رکی رکھو۔ اور العصف کھیتی کی سبز پیداوار ہے ، جب اس میں وَ الْعَصْف (الرحمن:١٣) بَقْلُ الزَّرْعِ إِذا سے کچھ کہنے سے پہلے کاٹ لی جائے تو یہی عصف قُطِعَ مِنْهُ شَيْءٌ قَبْلَ أَنْ يُدْرِكَ فَذَلِكَ ہوتا ہے۔ اور الریحان کے معنی ہیں کھیتی کے پتے۔ الْعَصْفُ وَالرَّيْحَانُ (الرحمن : ١٣) رِزْقُهُ اور حبّ وہ اناج ہے جسے کھاتے ہیں۔ اور اور ریحان وَالْحَبُّ (الرحمن : ١٣) الَّذِي يُؤْكَلُ مِنْهُ وَ عربوں کی زبان میں رزق کو بھی کہتے ہیں۔ اور الرَّيْحَانُ فِي كَلَامِ الْعَرَبِ الرِّزْقُ وَ بعض نے کہا: عصف سے مراد وہ اناج ہے جو کھایا قَالَ بَعْضُهُمْ وَالْعَصْفُ يُرِيدُ الْمَأْكُولَ جاتا ہے اور ریحان وہ پختہ اناج ہے جس کو (کیا) نہ مِنَ الْحَبِّ وَالرَّيْحَانُ النَّضِيجُ الَّذِي کھایا جائے۔ اور (مجاہد کے سوا) آوروں نے کہا: العصف کے معنی ہیں گیہوں کے پتے۔ اور ضحاک لَمْ يُؤْكَلُ۔ وَقَالَ غَيْرُهُ الْعَصْفُ وَرَقُ نے کہا: عصف بھو سا ہے۔ اور ابو مالک (غفاری) الْحِنْطَةِ۔ وَقَالَ الضَّحَّاكُ الْعَصْفُ نے کہا: العصف وہ سبزہ ہے جو پہلے پہل اگتا ہے، التِّبْنُ۔ وَقَالَ أَبُو مَالِكِ الْعَصْفُ أَوَّلُ جے کسان لوگ هَبُورًا کہتے ہیں۔ اور مجاہد نے کہا: مَا يَنْبُتُ تُسَمِّيهِ النَّبَطُ هَبُورًا ۔ وَقَالَ عَصْف کے معنی ہیں گیہوں کے پتے اور ریحان کے مُجَاهِدٌ الْعَصْفُ وَرَقُ الْحِنْطَةِ معنى رزق اور مارج کے معنی ہیں شعلہ کی وہ وَالرَّيْحَانُ الرِّزْقُ وَالْمَارِجُ اللَّهَبُ لپٹ جو زرد اور سبز ہوتی ہے، وہ جو آگ کے اوپر ہوتی ہے جب وہ جلائی جائے۔ اور بعض نے مجاہد سے روایت کرتے ہوئے کہا: رَبُّ الْمَشْرِقَيْنِ سے إِذَا أُوقِدَتْ وَقَالَ بَعْضُهُمْ عَنْ مُجَاهِدٍ و ( دو مشرق) مراد ہیں جو سورج کے ہوتے ہیں۔ الْأَصْفَرُ وَالْأَخْضَرُ الَّذِي يَعْلُو النَّارَ رَبُّ الْمَشْرِقَيْنِ (الرحمن: ۱۸) لِلشَّمْسِ فِي موسم سرما میں ایک مشرق اور موسم گرما میں الشَّتَاءِ مَشْرِقٌ وَ مَشْرِقُ فِي الصَّيْفِ دوسرا مشرق، یعنی اس کے نکلنے کی جگہ ۔ اور ا عمدة القاری کے مطابق اس جگہ لفظ " وَرَقُه “ ہے۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۹ صفحہ ۲۱۱) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔