صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 163
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۶۵ - كتاب التفسير / اقتربت الساعة ثابت کر دکھائے اور کافروں کی جڑ کاٹ دے۔“ نیز آپ نے فرمایا: الهام عقل علم اور سچائی، باب ششم، علم غیب کا انکشاف اور قرآن کریم، صفحہ ۵۰۹،۵۰۸) ” سورۃ القمر میں اس امر کی وضاحت گزشتہ اقوام کی تاریخ کے حوالہ سے کی گئی ہے جنہوں نے اپنے وقت کے انبیاء کے اندار پر کان نہ دھرا۔نتیجہ وہ اپنے المناک انجام کو پہنچیں جس کا انہیں وعدہ دیا گیا تھا۔اور وقت گزرنے کے بعد کی توبہ ان کے کسی کام نہ آئی۔اس انذار سے یہ فائدہ ضرور حاصل ہوا کہ وہ آئندہ نسلوں کیلئے عبرت کا نشان بن گئیں۔چنانچہ قرآن کریم ان کے المیہ کی طرف اس لئے اشارہ کرتا ہے تا ان کی موت سے آئندہ نسلیں صحیح انداز سے زندگی بسر کرنے کا فن سیکھ سکیں۔وَلَقَدْ جَاءَهُمْ مِنَ الْأَنْبَاءِ مَا فِيْهِ مُزْدَجَرُه حِكْمَةٌ بَالِغَةُ فَمَا تُغْنِ النُّذُرُ ه (القمر ۲،۵:۵۴) ترجمہ: اور ان کے پاس کچھ خبریں پہنچ چکی تھیں جن میں سخت زجر و توبیخ تھی۔کمال تک پہنچی ہوئی حکمت تھی۔پھر بھی انذار کسی کام نہ آئے۔اگر کوئی قوم سبق حاصل نہ کرے تو اپنی اس خوفناک تباہی کی وہ خود ذمہ دار ہو گی جو ان کی منتظر ہے۔جس ایٹمی تباہی کا ہم ذکر کر رہے ہیں، سورۃ طہ میں بھی اس کے انجام کے بارہ میں کھول کر بیان کیا گیا ہے۔اس آیت پر غور کرنے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ تباہی دنیا کی بڑی بڑی طاقتوں کا غرور اور رعونت پاش پاش کر کے رکھ دے گی۔انسان کو بحیثیت مجموعی صفحہ ہستی سے نہیں مٹایا جائے گا۔متعلقہ آیت میں واضح طور پر یہ پیشگوئی کی گئی ہے کہ یہ موقع بنی نوع انسان کے کلیۂ خاتمہ کا نہیں ہو گا بلکہ متکبر سیاسی طاقتیں سرنگوں کی جائیں گی اور ان کے مقبروں پر نظام نو کی بنیادیں اٹھائی جائیں گی۔“ الہام عقل علم اور سچائی، باب ششم، عالمگیر ایٹمی تباہی، صفحه ۵۴۴، ۵۴۵)