صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 162 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 162

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۱۶۲ ۶۵ - كتاب التفسير / اقتربت الساعة الدِّرْعِ فَخَرَجَ وَهُوَ يَقُولُ سَيُهْزَمُ نے آپ کے ہاتھ کو پکڑ لیا اور کہا: بس یا رسول اللہ ! الْجَمْعُ وَيُولُونَ الدُّبُرَ بَلِ السَّاعَةُ کافی ہے۔ آپ نے اپنے رب سے دعا مانگنے مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَآمَرُ میں بہت اصرار کر لیا ہے۔ آپ اس وقت زرہ القمر : ٤٦ ، ٤٧) پہنے تھے۔ آپ باہر آئے اور یہ فرمایا ر ہے تھے: عنقریب یہ جتھے شکست کھا کر بھاگ جائیں گے اور پیٹھ پھیر دیں گے۔ بلکہ وہ گھڑی ان کے لئے مقررہ میعاد ہے۔ اور وہ گھڑی نہایت ہی مصیبت ڈھانے والی اور نہایت تلخ ہو گی۔ أطرافه ٢٩١٥، ٣٩٥٣، ٤٨٧٥۔ تشريح : بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَ السَّاعَةُ اَدھی وَ آمَر : بلکہ وہ گھڑی ان کے لئے مقررہ میعاد ہے اور وہ گھڑی نہایت ہی مصیبت ڈھانے والی اور نہایت تلخ ہو گی۔ حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: قریش مکہ کی تباہ کن شکست کا ذکر مندرجہ بالا آیات قرآنی میں بطور پیشگوئی موجود ہے۔ ان آیات کے آخری حصہ میں ان کے درد ناک انجام کا ذکر ہے۔ سردارانِ قریش، جو اسلام کے پکے دشمن اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے شدید عداوت رکھتے تھے، ایک ایک کر کے میدان بدر میں کھیت رہے۔ ابو جہل دونو عمر مسلمان لڑکوں کے ہاتھوں مارا گیا۔ اسی طرح شیبہ اور عقبہ چند گھنٹوں ہی میں تہ تیغ ہو کر کیفر کردار کو پہنچے۔ اہل مکہ کے مایوس اور رنجیدہ دلوں پر وہ رات قیامت بن کر ٹوٹی۔ وہ انتہائی افراتفری میں بھاگنے پر مجبور ہوئے۔ اس ذلت آمیز شکست کا ذکر سورۃ الانفال کی مندرجہ ذیل آیت میں موجود ہے: وَإِذْ يَعِدُكُمُ اللهُ إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ أَنَّهَا لَكُمْ وَ تَوَدُّونَ أَنَّ غَيْرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَكُونُ لَكُمْ وَ يُرِيدُ اللهُ أَنْ يُحِقَّ الْحَقِّ بِكَلِمَتِهِ وَ يَقْطَعَ دَابِرَ الْكَفِرِينَ (الانفال (٨:۸) ترجمہ : اور (یاد کرو) جب اللہ تمہیں دو گروہوں میں سے ایک کا وعدہ دے رہا تھا کہ وہ تمہارے لئے ہے اور تم چاہتے تھے کہ تمہارے حصہ میں وہ آئے جس میں ضرر پہنچانے کی صلاحیت نہ ہو۔ اور اللہ چاہتا تھا کہ وہ اپنے کلمات کے ذریعہ حق کو