صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 160
حیح البخاری جلد ۱۲ ۱۷۰ ۶۵ - كتاب التفسير / اقتربت الساعة تشریح : سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَ يُولُونَ الدُّبُرَ: یعنی ان کی جماعت کو عنقریب شکست دی جائے گی اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے۔اس باب کی احادیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اُن تضرعات کا ذکر ہے جو آپ نے اپنے رب کے حضور بڑے الحاج سے کیں۔اللہ تعالیٰ نے آپ کی درد بھری اُن دعاؤں کو قبول فرمایا جن میں آپ نے اپنے رب کے حضور اس کی عبادت کا واسطہ دیا۔اور جس خیمہ میں آپ خدا کے حضور ابتہال کر رہے تھے اس خیمہ میں ہی آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے فتح و ظفر کی نوید دی گئی اور دشمنوں کی ہلاکت و تباہی کا نظارہ دکھایا گیا۔آپ ان آیات کی تلاوت کرتے ہوئے خیمہ سے باہر تشریف لائے اور آپ نے ان جگہوں پر نشان لگائے جہاں سردارانِ قریش ڈھیر ہونے والے تھے۔اور یہ جنگ در اصل اس خیمہ میں لڑی گئی اور اس کا فیصلہ بھی خدا کی تقدیر نے ادھر ہی آپ کو سنا دیا۔حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: غزوہ بدر کے موقع پر لڑائی شروع ہونے سے قبل جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دعا سے فارغ ہوئے تو آپ نے سورۃ القمر کی جو مکی سورۃ ہے مذکورہ بالا آیت پڑھی۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ علم اللہ تعالیٰ کی طرف سے مل چکا تھا کہ مسلمانوں کو کفار سے جنگیں لڑنی پڑیں گی اور کفار شکست کھا کر اپنی طاقت کھو بیٹھیں گے۔الغرض ان سب امور سے پتہ چلتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش آمده واقعات کے بارے میں پہلے سے پوری پوری بصیرت عطا کی گئی تھی۔سورۃ التکویر میں آپ کے علم غیب سے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَلَقَدْ رَاهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ وَمَا هُوَ عَلَى الْغَيْبِ بِضَنِينِ ( التكوير : ۲۵،۲۴) کہ محمد رسول اللہ صلی علیکم نے غیبی امور کو کھلے اُفق میں دیکھا ہے اور وہ غیبی خبریں بتانے میں ہرگز بخیل نہیں، یعنی آپ بلند مقام سے غیب کو دیکھ چکے ہیں۔یہ ظاہر ہے کہ بلند مقام پر کھڑے ہو کر دیکھنے سے دور و نزدیک کی سب اشیاء نظر کے سامنے آجاتی ہیں۔آپ نے غزوات سے متعلق جو قدم اُٹھایا، وہ وحی الہی کے نور اور روشنی میں علی وجہ البصیرت تھا۔“ ( صحیح بخاری ترجمه و شرح کتاب المغازی، باب قول الله تعالى إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ ، جلد ۸ صفحه ۲۹)