صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 157
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۱۵۷ ۶۵ - كتاب التفسير / اقتربت الساعة فَقَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ يَقْرَؤُهَا فَهَلْ کیا یہ آیت فَهَلْ مِنْ تُمدَّ کر ہے یا مذ کر ۔ انہوں من مدكر ( القمر : ۲۳) قَالَ وَسَمِعْتُ نے کہا: میں نے حضرت عبد اللہ کو یہ آیت یوں النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا پڑھتے سنا: فَهَلْ مِنْ تُذكر (حضرت عبد الله بن مسعود کہتے تھے : اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ ( القمر : ٢٣) دَالًا۔ وسلم کو اسے وال سے پڑھتے سنا: فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ یعنی کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے؟ أطرافه: ٣٣٤١، ٣٣٤٥، ٣٣٧٦، ٤٨٦٩، ٤٨٧٠، ٤٨٧٢، ٤٨٧٣، ٤٨٧٤۔ باب : فَكَانُوا كَهَشِيمِ الْمُحْتَظِرِ وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ ( القمر : ۳۲ ، ۳۳) ۴۸۷۲ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: ) وہ جلی ہوئی باڑ کے بوسیدہ کوڑا کرکٹ کی طرح ہو گئے اور ہم نے قرآن کو نصیحت کے لئے آسان کر دیا ہے۔ کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے؟ ٤٨٧٢ : حَدَّثَنَا عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا أَبِي /۴: عبدان نے ہم سے بیان کیا کہ میرے عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ باپ (عثمان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے شعبہ سے، الْأَسْوَدِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ شعبہ نے ابو اسحاق سے ، ابو اسحاق نے اسود سے، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ اسود نے حضرت عبد اللہ بن مسعود) رضی اللہ عنہ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ (القمر: ٣٣) الْآيَةَ۔ سے، حضرت عبد اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے یوں پڑھا: فَهَلْ مِنْ مُّدَّ کر کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے ؟) أطرافه: ٣٣٤١، ٣٣٤٥، ٣٣٧٦، ٤٨٦٩ ، ٤٨٧٠، ٤٨٧١، ٤٨٧٣، ٤٨٧٤۔ باب ٤ وَلَقَدْ صَبَّحَهُمْ بُكْرَةً عَذَابٌ مُسْتَقِرٌّ فَذُوقُوا عَذَابِي وَنُذْرِ ( القمر : ٣٩ - ٤٠) - صبح سویرے ہی ایک دائمی عذاب نے اُن کو آن گھیرا۔ میرے عذاب اور میرے ڈرانے کو چکھو ٤٨٧٣ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا ۴۸۷۳: محمد بن بشار ) نے ہم سے بیان کیا کہ