صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 156
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۱۵۶ ۶۵ - كتاب التفسير / اقتربت الساعة کام پر وقف ہیں کہ قرآنی آیات کے حوالہ سے اس کشتی کا کھوج نکالیں۔ میری تحقیق کے مطابق یہ کشتی بحیرہ مردار کی تہہ میں محفوظ ہو گئی ہے اور وقت آنے پر نکال لی جائے گی۔“ ترجمه قرآن کریم حضرت خلیفة المسیح الرابع ، سوره قمر حاشیه آیت ۱۶ صفحه ۹۶۸) بَاب : وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ (القمر: ۱۸) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: ) ہم نے قرآن کو یاد کرنے کے لئے آسان کر دیا۔ کیا کوئی یاد کرنے والا ہے؟ قَالَ مُجَاهِدٌ: يَشَرُنَا ( القمر : ۱۸) مجاہد نے کہا : يسرنا یعنی ہم نے اس کا پڑھنا هَوَّنَّا قِرَاءَتَهُ۔ آسان کیا۔ ٤٨٧٠ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ عَنْ يَحْيَى ۴۸۷۰: مسد دنے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ يحي بن سعید قطان) سے، بچی نے شعبہ سے، الْأَسْوَدِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ شعبہ نے ابو اسحاق سے ، ابو اسحاق نے اسود سے، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ اسود نے حضرت عبداللہ بن مسعود ) رضی اللہ عنہ كَانَ يَقْرَأُ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ سے، حضرت عبد اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم (القمر: ١٨) سے روایت کی کہ آپ یوں پڑھا کرتے تھے: فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِر یعنی تو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے؟ أطرافه: ٣٣٤١، ٣٣٤٥، ٣٣٧٦، ٤٨٦٩، ٤٨٧١، ٤٨٧٢ ، ٤٨٧٣، ٤٨٧٤۔ بَاب أَعْجَازُ نَخْلٍ مُنْقَعِرٍ فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِي وَنُذْرِ ( القمر : ۲۱ ، ۲۲) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: ) کھجور کے ایسے تنے ہیں جن کے اندر کا گودا کھایا ہوا تھا۔ پس دیکھو کہ میرا عذاب (کیسا سخت) اور میرا ڈرانا کیسا (سچا) تھا ٤٨٧١: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا ۴۸۷۱: ابو نعیم نے ہم سے بیان کیا کہ زہیر نے زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلًا ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابو اسحاق سے روایت کی۔ سَأَلَ الْأَسْوَدَ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ أَوْ مُدَّكِرٍ انہوں نے ایک شخص کو سنا جو اسود سے پوچھ رہا تھا: