صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 155 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 155

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۱۵۵ ۶۵ - كتاب التفسير / اقتربت الساعة ہر قل شاہ روم بھی اس کی زیارت کے لئے وہاں گیا تھا۔زیارت گاہ و ہیکل "الجودی" پہاڑ کے نام سے مشہور تھے۔مجاہد کی شرح میں الجودی کا محل وقوع خیالی نہیں بلکہ قدیم تاریخ سے اس کی تصدیق ہوتی ہے۔مسیحی روایات میں تو یہاں تک ہے کہ وہاں گڈریوں وغیرہ نے سفینہ نوح علیہ السلام کی تختیوں کے ٹکڑے پائے اور ان سے کاٹ کر تعویذ استعمال کیے۔آثار قدیمہ سے متعلق اکتشافات نے ان پہاڑوں کی چوٹیوں اور غاروں میں دریائی جانوروں کے پنجر پائے ہیں جس سے انہیں تعجب ہوا اور قیاس کیا ہے کہ طوفانِ نوح علیہ السلام کی بلند لہروں کے بہاؤ نے دریائی جانور وہاں پھینکے یا وہاں قدیم زمانے میں سمندر تھا اور آتش فشانی کے نتیجے میں تہہ سمندر کے پہاڑ زمین پر اُبھر آئے اور ان کے ساتھ آبی جانور بھی۔یہ سب قیاس آرائیاں ہیں۔ان سے اس وقت تک کوئی حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا گیا۔روایات سے جو یقینی بات معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کی بعثت کا تعلق دو آبہ فرات و دجلہ کی سرزمین اور اس کی قوم سے ہے اور وہیں طوفان آیا اور اسی علاقہ کے پہاڑوں میں سے ایک پہاڑ پر سفینہ نوح ٹھہری اور پانی خشک ہونے پر نئے سرے سے آبادی ہوئی اور ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں وہ پہاڑ جو دی نام سے مشہور تھا جس کا یونانی تلفظ Gordyoei ہے۔( صحیح بخاری ترجمه و شرح، کتاب احادیث الانبیاء، باب ۳، جلد ۶ صفحه ۱۸۴) دورس وَلَقَد تَرَكْنَهَا آيَةً : حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ تحریر فرماتے ہیں: ں کشتی کے متعلق فرمایا گیا ہے کہ یہ ایک نشان ہے جو نصیحت پکڑنے والوں کے لئے ایمان افروز ثابت ہو گا۔اس سے یہ بھی امکان پیدا ہوتا ہے کہ حضرت نوح کی کشتی آنے والی نسلوں کے لئے ایک نشان کے طور پر محفوظ کر دی گئی ہے۔باوجود اس کے کہ عیسائیوں کو قرآن کریم کے اس بیان کی کوئی خبر نہیں وہ پھر بھی حضرت نوح کی کشتی کو کہیں نہ کہیں ایک نشان کے طور پر محفوظ سمجھتے ہیں اور اس کی تلاش ہر جگہ جاری ہے۔جماعت احمدیہ کی طرف سے بھی بعض لوگ اس