صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 154
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۱۵۴ ۶۵ - كتاب التفسير / اقتربت الساعة رسول کے ذریعہ سے اس کو تبلیغ نہ کی ہو اور حضرت نوح کی تبلیغ ساری دنیا کی قوموں پر کہاں پہنچی تھی جو سب غرق ہو جاتے۔دوم اتنی چھوٹی سی کشتی میں جو صرف ۳۰۰ ہاتھ لمبی اور ۵۰ ہاتھ چوڑی ہو ساری دنیا کے جانور بہائم چرند پرند سات سات جوڑے یا دو دو جوڑے کیوں کر سماسکتے ہیں۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس کتاب میں تحریف ہے اور اس میں بہت سی غلطیاں داخل ہو گئی ہیں۔تعجب ہے کہ بعض سادہ لوح علماء اسلام نے بھی ان باتوں کو اپنی کتابوں میں درج کر لیا ہے مگر قرآن شریف ہی ان بے معنی باتوں سے پاک ہے، اس پر ایسے اعتراض وارد نہیں ہو سکتے۔اس میں نہ تو کشتی کی لمبائی چوڑائی کا ذکر ہے اور نہ ساری دنیا پر طوفان آنے کا ذکر ہے بلکہ صرف الارض یعنی وہ زمین جس میں نوح نے تبلیغ کی صرف اس کا ذکر ہے۔لفظ اراراٹ جس پر نوح کی کشتی ٹھہری اصل آڑی رینیت ہے جس کے معنی ہیں میں پہاڑ کی چوٹی کو دیکھتا ہوں۔ریت پہاڑ کی چوٹی کو کہتے ہیں۔قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے لفظ جُودِی رکھا ہے جس کے معنے ہیں میرا جو دو کرم۔یعنی وہ کشتی میرے جو دو کرم پر ٹھہری۔“ (ملفوظات جلد اول صفحہ ۵۲۶) حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب فرماتے ہیں: آیت میں جودی پہاڑ پر سفینہ نوح کے ٹھہرنے کا ذکر ہے۔مجاہد نے عراق عرب کے سلسلہ کوہستان کے پہاڑوں میں سے ایک پہاڑ کا نام جو دی بتایا ہے جو دو آبہ دجلہ و فرات کے درمیان شمال مشرق میں واقع ہیں۔(عمدۃ القاری جزء ۱۵ صفحہ ۲۱۸) توریت میں اس علاقہ کا نام اراراط مذکور ہے۔چنانچہ پیدائش باب ۸ ( آیت ۳) میں آتا ہے اور ساتویں مہینے کی سترھویں تاریخ کو کشتی اراراط کے پہاڑوں پر ٹک گئی اس سے ظاہر ہے کہ اراراط علاقے کا نام ہے جو فرات ودجلہ بجانب شمال دیار بکر تک ممتد ہے اور یہ سلسلہ کوہستان عراق اور آرمینیا کے درمیان حد فاصل ہے۔کلدانی قوم کی قدیم روایات میں بھی سفینہ نوح کا ذکر پایا جاتا ہے۔پہاڑ کا یونانی نام Gordyoei ہے جس کا عربی تلفظ جو دی ہے۔عیسائیوں نے حسب عادت وہاں ایک دیر اور معبد بھی سفینہ نوح کے نام سے تعمیر کیا ہے اور بیان کیا جاتا ہے کہ