صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 153
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۱۵۳ ۶۵ - كتاب التفسير / اقتربت الساعة بَاب ٢ : تَجْرِى بِأَعْيُنِنَا جَزَاء لِمَنْ كَانَ كَفِرَه وَلَقَدْ تَرَكْنَهَا آيَةً فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ ( القمر : ١٥، ١٦) ( اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: ) وہ کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے چلتی تھی یہ جزا اس شخص کی وجہ سے تھی جس کی ناقدری کی گئی۔اور ہم نے اس کو بطور نشان کے باقی رکھا تو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے؟ قَالَ قَتَادَةُ أَبْقَى اللَّهُ سَفِينَةَ نُوحٍ قتادہ نے کہا: اللہ نے حضرت نوح کی کشتی کو دنیا حَتَّى أَدْرَكَهَا أَوَائِلُ هَذِهِ الْأُمَّةِ۔میں باقی رکھا، یہاں تک کہ اس امت کے پہلے لوگوں نے اس کشتی کو دیکھ لیا۔٤٨٦٩ : حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ :۴۸۶۹ حفص بن عمر نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَن شعبہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابو اسحاق (طبیعی) الْأَسْوَدِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ سے ، ابو اسحاق نے اسود (بن یزید) سے، اسود صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فَهَلْ مِنْ نے حضرت عبد اللہ بن مسعود) سے روایت کی۔مدكر ( القمر : ١٦) انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم یوں پڑھا کرتے تھے : فَهَلْ مِن مُّدَّ کر یعنی تو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے؟ أطرافه: ٣٣٤١ ٣٣٤٥، ٣٣٧٦، ۴۸۷۰، ۱۸۷۱، ٤٨۷۲ ، ٤٨٧٣، ٤٨٧٤ - تشريح۔تَجْرِى بِأَعْيُنِنَا جَزَاءُ لِمَنْ كَانَ كَفْر : یعنی وہ کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے چلتی تھی۔یہ جزا اس شخص کی وجہ سے تھی جس کی ناقدری کی گئی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: بائیل میں لکھا ہے کہ وہ طوفان ساری دنیا میں آیا اور کشتی تین سو ہاتھ لمبی اور پچاس ہاتھ چوڑی تھی اور اس میں حضرت نوح نے ہر قسم کے پاک جانوروں میں سے سات جوڑے اور ناپاک میں سے دو جوڑے ہر قسم کے کشتی میں چڑھائے حالانکہ یہ دونوں باتیں غلط ہیں۔اول تو اللہ تعالیٰ نے کسی قوم پر عذاب نازل نہیں کیا جب تک پہلے