صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 152
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۱۵۲ ۶۵ - كتاب التفسير / اقتربت الساعة کی معتبر کتابوں میں بھی شہادت پائی جاتی ہے۔مہابھار تہہ کے دھرم پر ب میں بیاس جی صاحب لکھتے ہیں کہ ان کے زمانہ میں چاند دو ٹکڑے ہو کر پھر مل گیا تھا۔اور وہ اس شق قمر کو اپنے بے ثبوت خیال سے بسو امتر کا معجزہ قرار دیتے ہیں لیکن پنڈت دیانند صاحب کی شہادت اور یورپ کے محققوں کے بیان سے پایا جاتا ہے کہ مہا بھار تہہ وغیرہ پر ان کچھ قدیم اور پرانے نہیں ہیں بلکہ بعض پرانوں کی تالیف کو تو صرف آٹھ سو یا نو سو برس ہوا ہے۔اب قرین قیاس ہے کہ مہا بھار تہہ یا اس کا واقعہ بعد مشاہدہ واقعہ شق القمر جو معجزہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تھا لکھا گیا اور بسو امتر کا نام صرف بے جاطور کی تعریف پر جیسا کہ قدیم سے ہندوؤں کے اپنے بزرگوں کی نسبت عادت ہے درج کیا گیا ہے۔سرمہ چشم آرید، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۱۲۷،۱۲۶) سوم یہ ایک کشفی نظارہ تھا جس کی وسعت کا دائرہ بہت وسیع تھا جیسا کہ عرب سے باہر کے لوگوں کی گواہیوں سے ثابت ہے۔ہندوستان میں بھی اس واقعہ کی شہادت ملتی ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رؤیا و کشوف کے متعلق یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے جس کی انبیاء اور اولیاء کی تاریخ میں کثرت سے مثالیں پائی جاتی ہیں کہ بعض دفعہ کشفی نظارے ایسے وسیع کر دیئے جاتے ہیں کہ وہ دوسروں کو بھی نظر آنے لگ جاتے ہیں۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں انشقاق قمر کا جو معجزہ ظاہر ہو اوہ بھی ایک کشفی نظارہ تھا جو وسیع کر دیا گیا اور نہ صرف مکہ کے کچھ لوگوں کو نظر آیا بلکہ جیسا کہ تاریخ سے ثابت ہے ہندوستان کے ایک راجہ کو بھی نظر آگیا اور وہ مسلمان ہو گیا۔(تفسیر کبیر جلدے صفحہ ۱۱۱) چہارم شہب ثاقبہ کا گرنا ایک مسلمہ حقیقت ہے اور مذاہب کی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء کے ظہور کے زمانے میں شہب ثاقبہ کثرت سے گرتے رہے ہیں۔ممکن ہے کہ اس وقت جب کفار نے نشان مانگا تو اللہ تعالیٰ کے قانونِ قدرت کے مطابق ایک بہت بڑا شہاب ثاقب (meteorite) چاند پر گرا ہو جس سے خاک کا ایک ایسا عظیم الشان طوفان اُٹھا ہو جس کی وجہ سے زمین سے دیکھنے والے کو یہ لگے کہ شاید چاند دو ٹکڑے ہو گیا ہے۔تفصیل کے لیے دیکھئے مجلس سوال وجواب حضرت خلیفتہ المسیح الرابع بتاریخ ۲ مئی ۱۹۹۷ء۔( تاریخ فرشته، مقاله یازدهم در بیان مجملی از احوال حکام ملیبار که بصفت اسلام متصف بوده اند، جزء ۲ صفحه ۳۷۰،۳۶۹)