صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 151 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 151

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۱۵۱ ۶۵ - كتاب التفسير / اقتربت الساعة نیز فرمایا: "شق القمر کا عالی شان معجزہ جو خدائی ہاتھ کو دکھلا رہا ہے۔قرآن شریف میں مذکور ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلی کے اشارہ سے چاند دو ٹکڑے ہو گیا اور کفار نے اس معجزہ کو دیکھا۔اُس کے جواب میں یہ کہنا کہ ایسا وقوع میں آنا خلاف علم ہیئت ہے یہ سراسر فضول باتیں ہیں کیونکہ قرآن شریف تو فرماتا ہے کہ اقتربَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَ الْقَمَرُه وَإِن يَرُوا آيَةً يُعْرِضُوا وَ يَقُولُوا سِحْرٌ مُسْتَمِره ( القمر : ٢، ٣) یعنی قیامت نزدیک آگئی اور چاند پھٹ گیا اور کافروں نے یہ معجزہ دیکھا اور کہا کہ یہ پکا جادو ہے جس کا آسمان تک اثر چلا گیا۔اب ظاہر ہے کہ یہ تیرا دعویٰ نہیں بلکہ قرآن شریف تو اس کے ساتھ ان کا فروں کو گواہ قرار دیتا ہے جو سخت دشمن تھے اور کفر پر ہی مرے تھے۔اب ظاہر ہے کہ اگر شق القمر وقوع میں نہ آیا ہو تا تو مکہ کے مخالف لوگ اور جانی دشمن کیونکر خاموش بیٹھ سکتے تھے وہ بلاشبہ شور مچاتے کہ ہم پر یہ تہمت لگائی ہے ہم نے تو چاند کو دو ٹکڑے ہوتے نہیں دیکھا اور عقل تجویز نہیں کر سکتی کہ وہ لوگ اس معجزہ کو سراسر جھوٹ اور افتر اخیال کر کے پھر بھی چپ رہتے۔بالخصوص جبکہ اُن کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس واقعہ کا گواہ قرار دیا تھا تو اس حالت میں اُن کا فرض تھا کہ اگر یہ واقعہ صحیح نہیں تھا تو اس کا رڈ کرتے نہ یہ کہ خاموش رہ کر اس واقعہ کی صحت پر مہر لگا دیتے۔پس یقینی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ ضرور ظہور میں آیا تھا اور اس کے مقابل پر یہ کہنا کہ یہ قواعد ہیئت کے مطابق نہیں یہ عذرات بالکل فضول ہیں۔معجزات ہمیشہ خارق عادت ہی ہوا کرتے ہیں ورنہ وہ معجزے کیوں کہلائیں، اگر وہ صرف ایک معمولی بات ہو۔اور علاوہ اس کے علم ہیئت کی کس نے اب تک حد بست کرلی ہے۔ہمیشہ نئے نئے عجائبات آسمانی ظاہر ہوتے ہیں کہ جن کے بھید کچھ بھی سمجھ نہیں آتے اور ایسے خارق عادت طور پر ظاہر ہوتے ہیں کہ عقل اُن میں حیران رہ جاتی ہے۔“ طورية چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۴۱۱، ۴۱۲) دوم تاریخی شہادت: حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں: پھر ان سب باتوں کے بعد ہم یہ بھی لکھتے ہیں کہ شق القمر کے واقعہ پر ہندوؤں