صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 148
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۱۴۸ ۶۵ - كتاب التفسير / اقتربت الساعة ٤٨٦٨: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ۴۸۲۸: مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ يحي (بن يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ سعيد قطان) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے شعبہ سے، شعبہ نے قتادہ سے، قتادہ نے حضرت انس قَالَ انْشَقَّ الْقَمَرُ فِرْقَتَيْنِ۔أطرافه: ٣٦٣٧، ٣٨٦٨، ٤٨٦٧- سے روایت کی۔انہوں نے فرمایا: چاند پھٹ کر دو ٹکڑے ہو گیا تھا۔شریح : وَانْشَقَّ الْقَمَرُ: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَالْشَقَ الْقَمَرُ وَإِنْ يَرُوا آيَةً يُعْرِضُوا القمر :۳۲) ( : اور چاند پھٹ گیا ہے۔اور اگر وہ کوئی نشان دیکھیں گے تو ضرور اعراض کر جائیں گے۔بیان کیا جاتا ہے کہ شق قمر کا یہ واقعہ ہجرت مدینہ سے پانچ سال پہلے ہوا۔ابو نعیم نے دلائل النبوۃ میں حضرت ابنِ عباس کی ایک روایت نقل کی ہے کہ چند مشرکین جن میں ابو جہل، ولید بن مغیرہ، عاص بن وائل اور نضر بن حارث شامل تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اگر آپ بچے ہیں تو چاند کو دو ٹکڑے کر دیجئے۔آپ نے دعا کی اور چاند دو ٹکڑے ہو گیا۔امام بخاری نے ان روایات کو قبول نہیں کیا اور وہ روایات لائے ہیں جو ان کے اصول کے مطابق تھیں۔باب میں مذکور روایات تین صحابہؓ سے مروی ہیں۔پہلی روایت حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کی ہے۔ان کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس واقعہ کے چشم دید گواہ ہیں۔دوسرے راوی حضرت عبد اللہ بن عباس ہیں۔شق قمر کا واقعہ ان کی پیدائش سے پہلے کا ہے اس لیے وہ اس کے چشم دید گواہ تو نہیں ہو سکتے البتہ انہوں نے یہ بات دیگر صحابہ سے سنی ہوگی۔تیسرے راوی حضرت انس بن مالک نہیں جن کی عمر اس وقت پانچ چھ سال تھی اور وہ اس وقت مدینہ میں تھے اس لیے انہوں نے بھی یہ واقعہ دیگر صحابہ سے سن کر بیان کیا۔حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: "سورۃ القمر کی مذکورہ بالا آیات کا تعلق یسعیاہ نبی علیہ السلام کی پیشگوئی سے بھی ہے جس کا ذکر ان کی کتاب یسعیاہ باب ۱۶:۲۱ میں ہے جس میں خبر دی گئی ہے کہ قیدار کی ساری حشمت جاتی رہے گی۔الشاعة سے مراد یہی تباہی کی گھڑی ہے۔عربوں کے نزدیک چاند اُن کی حکومت کا نشان تھا اور اب تک ان کے ہاں مہینوں کا شمار قمری حساب سے ہوتا ہے۔ان آیات کے سیاق و سباق سے ظاہر ہے کہ انشقاق قمر کا نشان بطور زجر تھا کہ وہ باز آجائیں ورنہ نہایت ہی ناگوار سزا اور سخت دن قریب ہے۔یوم (دلائل النبوة لأبي نعيم، الفصل السادس عشر ، فَأَمَّا انشقاق الْقَمَرِ فَكَانَ بِمَكَّة۔۔جزء اول صفحه ۲۸۰)