صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 149
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۱۴۹ ۶۵ - كتاب التفسير / اقتربت الساعة يداع الداع إلى شَيْءٍ تكره القمر : ) وہ دن جب بلانے والا ایک سخت ناپسندیدہ چیز کی طرف بلائے گا۔هَذَا يَوْمٌ عَسِر O (القمر:۹) یہ بہت سخت دن ہے۔گانهُم جراد منتشر ( القمر : ۸) کہ (جس دن) وہ ٹڈیوں کی طرح پراگندہ ہوں گے۔وَلَقَدْ جَاءَهُمُ مِنَ الْأَنْبَاءِ مَا فِيهِ مُزْدَجَرُه (القمر: ۵) اور یقیناً ان کے پاس وہ 66 اہم خبریں بھی آچکی ہے جن میں ان کے لئے تنبیہ کا سامان موجود ہے۔غرض قرآن مجید نے انشقاق قمر کے نظارے سے وابستہ انذاری پیشگوئی کا ذکر واضح الفاظ میں فرمایا ہے اور یہی وہ نشان تھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے متعلق صحف عہد نامہ قدیم میں بطور علامت بیان ہوا ہے اور یہ نشان آپ کے وجود سے پورا ہوا۔" ( صحیح بخاری ترجمه و شرح، کتاب المناقب، باب ۲۷، جلدے صفحہ ۱۳۵) اس واقعہ کی حقیقت کیا ہے ؟ اور کیا یہ قانون قدرت کے خلاف ہے ؟ اس کی متعدد تشریحات ممکن ہیں۔اول چاند فی الواقعہ دو ٹکڑے ہوا مگر اس سے نظام قدرت میں کوئی خلل واقعہ نہ ہوا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”خدائے تعالیٰ جل شانہ جو کام صرف قدرت نمائی کے طور پر کرتا ہے وہ کام سراسر قدرت کاملہ کی ہی وجہ سے ہوتا ہے نہ قدرت ناقصہ کی وجہ سے۔یعنے جس ذات قادر مطلق کو یہ اختیار اور قدرت حاصل ہے کہ چاند کو دو ٹکڑہ کر سکے ، اس کو یہ بھی تو قدرت حاصل ہے کہ ایسے پر حکمت طور سے یہ فعل ظہور میں لاوے کہ اس کے انتظام میں بھی کوئی خلل عائد نہ ہو۔“ (سرمه چشم آرید، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۱۰۹) فرمایا: "مسئلہ شق القمر ایک تاریخی واقعہ ہے جو قرآن شریف میں درج ہے اور ظاہر ہے که قرآن شریف ایک ایسی کتاب ہے جو آیت آیت اس کی بر وقت نزول ہزاروں مسلمانوں اور منکروں کو سنائی جاتی تھی اور اسی کی تبلیغ ہوتی تھی اور صدہا اس کے حافظ تھے۔مسلمان لوگ نماز اور خارج نماز میں اس کو پڑھتے تھے۔پس جس حالت میں صریح قرآن شریف میں وارد ہوا کہ چاند دو ٹکڑے ہو گیا اور جب کافروں نے یہ نشان دیکھا تو کہا کہ جادو ہے جیسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَ الْقَمَرُ وَإِن يَرَوْا آيَةً يُعْرِضُوا وَ يَقُولُوا سِحْرٌ مُسْتَير (القمر : ۲، ۳) تو اس