صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 146
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۱۴۶ ۶۵ - كتاب التفسير / اقتربت الساعة جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس وقت کے مشرکوں نے یہ نظارہ دیکھا مگر اپنی عادت کے مطابق اسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جادو قرار دیا۔ قرآن کریم فو کریم فرماتا ہے : وَإِن يَرَوْا آيَةً يُعْرِضُوا وَ يَقُولُوا سِحْرٌ مُسْتَمِرٌّ ) مُستَبر (القمر: ۳) اور اگر وہ کوئی نشان دیکھیں گے تو ضرور اعراض کر جائیں گے اور کہہ دیں گے کہ یہ محض ایک دھوکہ ہے جو ہمیشہ سے چلا آتا ہے۔ مُسْتَمِر کے معنی ہیں چلا جانے والا۔ اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ یہ جادو ہمیشہ سے چلا آیا ہے۔ یعنی ہر نبی نے جب کوئی نشان دکھایا تو مخالفین نے یہی کہا کہ یہ تو ہر زمانے میں ہوتا رہا ہے۔ ایک معنی یہ کیے گئے ہیں کہ یہ ختم ہو جائے گا اور باطل ٹھہرے گا۔ مُزْدَجَر کے معنی ہیں روک یا تنبیہ ۔ اور یہاں اس سے یہاں اس سے مراد قرآن ہے جس میں تمام حلال و حرام بیان کر دیے گئے ہیں اور ہر قسم کی زجر و توبیخ کر دی گئی ہے۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۷۸۳) لِمَنْ كَانَ كُفر : یعنی وہ کہتا ہے کہ یہ اللہ سے بدلہ ہے اس شخص کی وجہ سے جس کی انہوں نے ناقدری کی۔ یہاں جزا کا لفظ حضرت نوح کے لیے بطور بدلہ استعمال ہوا ہے کہ کفار کے انکار کے بدلے میں کشتی کے ذریعہ انہیں بچا کر ان کے صدق اور کوششوں کا بدلہ انہیں دیا گیا اور کفار کے لیے یہی کفر سیلاب کی صورت میں سز ا بن گیا۔ گویا ہر ایک کو اس کے کیسے کی جزا مل گئی۔ بَاب ۱ : وَانْشَقَّ الْقَمَرُ وَإِنْ يَرَوْا آيَةً يُعْرِضُوا ( القمر : ٢، ٣) اور چاند پھٹ گیا ہے۔ اور اگر وہ کوئی نشان دیکھیں گے تو ضرور اعراض کر جائیں گے ٤٨٦٤ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ۴۸۶۴: مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یچی (بن يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ وَسُفْيَانَ عَنِ الْأَعْمَشِ سعید قطان ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے شعبہ اور عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ عَنِ ابْنِ سفیان ثوری) سے، ان دونوں نے (سلیمان) مَسْعُودٍ قَالَ انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ اعمش سے ، اعمش نے ابراہیم (نخعی) سے، ابراہیم رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے ابو معمر سے، ابو معمر نے حضرت ابن مسعود فِرْقَتَيْنِ فِرْقَةٌ فَوْقَ الْجَبَلِ وَفِرْقَةً سے روایت کی۔ انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ دُونَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله علیہ وسلم کے زمانہ میں چاند پھٹ کر دو ٹکڑے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْهَدُوا ۔ ہو گیا۔ ایک ٹکڑا پہاڑ کے اُوپر، دوسرا اس کے سامنے مقابل میں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( دیکھ کر ) فرمایا: دیکھو گواہ رہنا۔ أطرافه: ٣٦٣٦، ٣٨٦٩، ٣٨٧١، ٤٨٦٥۔