صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 145 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 145

صحیح البخاری جلد ۱۲ الده ۶۵ - كتاب التفسير / اقتربت الساعة ٥٤ سُورَةُ اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ قَالَ مُجَاهِدٌ: مُسْتَمر ( القمر : ٣) مجاہد نے کہا: مستمر کے معنی ہیں چلا جانے والا۔ ذَاهِبٌ ۔ مُزْدَجَر ( القمر : ٥) مُتَنَاهِ، مُزْدَجَرُ کے معنی ہیں روک، تنبیہ ۔ وازدجر کے وَازْدَجِرَ ( القمر : ١٠) فَاسْتُطِيرَ جُنُونًا۔ معنی ہیں جنون سے پراگندہ حواس ہو گیا۔ دسر کے معنی ہیں کشتی کے تختے۔ لِمَنْ كَانَ كُفر یعنی دسر ( القمر : ١٤) أَضْلَاعُ السَّفِينَةِ۔ لِمَنْ كَانَ كَفِرَ (القمر: ١٥) يَقُولُ كُفِر وہ کہتا ہے کہ یہ اللہ سے بدلہ ہے اس بدلہ ہے اس شخص کی وجہ سے جس کی انہوں نے ناقدری کی۔ مختصر یعنی لَهُ جَزَاءً مِّنَ اللهِ مُحْتَضَرُ ( القمر : ٢٩) وہ پانی پر ( اپنی باری سے ) آتے ہیں۔ اور ابن جبیر يَحْضُرُونَ الْمَاءَ وَقَالَ ابْنُ جُبَيْرٍ نے کہا: مُهْطِعِينَ کے معنی ہیں النَّسَلان یعنی مُهْطِعِينَ ( القمر : ٩) النَّسَلَانُ الْخَبَبُ : تیزی سے دوڑنے والے۔ اور (ابن جبیر کے سوا) السّرَاعُ وَقَالَ غَيْرُهُ فَتَعَالَى اوروں نے کہا: فتعاطی یعنی اس نے اپنے ہاتھ (القمر : ٣٠) فَعَاطَى بِيَدِهِ فَعَقَرَهَا۔ سے وار کیا اور اس کو زخمی کر دیا۔ المُحتظِر کے الْمُحْتَظِرِ (القمر : ۳۲) كَحِظَارٍ مِّنَ معنی ہیں درختوں کی باڑ جو جلی ہوئی ہو۔ وَازْ دُجر الشَّجَرِ مُحْتَرِقٍ وَازْدَجِرَ (القمر: ١٠) زَجَرْتُ سے باب افتعال ہے، یعنی اسے دھتکارا افْتُعِلَ مِنْ زَجَرْتُ كُفِرَ (القمر: ١٥) گیا۔ کُفر یعنی ہم نے حضرت نوح اور ان کی فَعَلْنَا بِهِ وَبِهِمْ مَا فَعَلْنَا جَزَاءً لِمَا قوم کے ساتھ جو سلوک کیا وہ اس کا بدلہ تھا جو صُنِعَ بِنُوحٍ وَأَصْحَابِهِ مُسْتَقِرٌّ حضرت نوح اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ کیا القمر : ٣٩) عَذَابٌ حَقِّ۔ يُقَالُ گیا۔ مُسْتَقِرٌّ یعنی ائل عذاب الآشر اترانے الآشر (القمر: ۲۷) الْمَرَحُ وَالتَّجَبُّرُ۔ اور ظلم کرنے کو کہتے ہیں۔ تشريح : سُورَةُ اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ: اس سورہ میںیہ پیشگوئی کی گئی ہے کہ عربوں کی حکومت کے ختم ہونے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ایک عظیم الشان انقلاب برپا ہونے کا وقت آگیا ہے۔ اس پیشگوئی کے نشان کے طور پر چاند کو دو ٹکڑے کر کے دکھایا گیا۔ چاند کے دو ٹکڑے ہونے کے کئی مطالب بیان کیے گئے ہیں جن کا ذکر آگے آرہا ہے۔ اس واقعہ کے وقوع پذیر ہونے کا جہاں تک تعلق ہے اس کے شواہد بہت ہیں جن سے انکار ممکن نہیں۔ اس واقعہ کے حوالہ سے قرآن کریم نے مشرکین کی ایک قطعی شہادت پیش کی ہے