صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 144 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 144

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۱۴۴ ۶۵ - کتاب التفسير والنجم قُتِلَ كَافِرًا وَهُوَ أُمَيَّةُ بْنُ خَلَفٍ۔کے کہ جس کو میں نے دیکھا کہ اس نے مٹھی بھر أطرافه ۱۰٦٧، ۱۰۷۰، ۳۸۰۳، ۳۹۷۲۔مٹی لی اور اس پر اس نے سجدہ کیا۔پھر اس کے بعد میں نے اس کو دیکھا کہ وہ کافر ہی مارا گیا۔اور وہ امیہ بن خلف تھا۔تشريح : فَاسْجُدُ واللهِ وَاعْبُدُوا: یعنی اللہ ہی کو تم سجدہ کرو اور اسی کی عبادت کرو۔حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: "سورۃ النجم کی آیت فَاسْجُدُوا لِلَّهِ وَاعْبُدُوا بصیغہ امر ہے اور یہ مقام بھی تاکیدی سجدوں میں شمار کیا جاتا ہے اور یہ پہلا موقع تھا جس پر سجدہ کیا گیا (روایت نمبر ۴۸۶۳) گوسورة اقرأ باسم ربک میں بھی سجدہ کا حکم ہے جو پہلی سورۃ ہے۔اس کے آخر میں فرماتا ہے : وَاسْجُدُ وَاقْتَرِب۔بعض کا خیال ہے کہ یہ آیت سورۃ النجم کے بعد نازل ہوئی ہوگی یا یہ کہ سجدہ کرنے کا خیال آپ کو نہ آیا ہو یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ چونکہ اس آیت پر سورۃ ختم ہوتی ہے اور اس کے معا بعد رکوع وسجو د ہوتا ہے، اسی پر اکتفاء کیا گیا۔بہر حال یہ ثابت شدہ امر ہے کہ پہلا سجدہ آپ نے سورۃ النجم کی تلاوت پر ہی کیا تھا۔جسے سن کر مشرکین بھی اس قدر متاثر تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سجدہ کرنے پر انہوں نے بھی صحابہ کر اٹم کے ساتھ ہی سجدہ کیا، سوائے امیہ بن خلف کے۔( صحیح بخاری ترجمه و شرح، کتاب سجود القر آن، باب سجدَةُ النَّجْمِ ، جلد دوم صفحه ۴۷۳)