صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 142 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 142

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۱۴۲ ۶۵ کتاب التفسير والنجم یعنی اس میں شیطانی کلام کا اس قدر رو ہے کہ اسے شیطان اُتار ہی کس طرح ! سکتا ہے۔(۲) پھر اگر شیطان یا اس کے ساتھی اس میں کچھ ملانا چاہیں تو ملا ہی نہیں سکتے۔کہیں کوئی عبارت کھپ ہی نہیں سکتی۔جو کچھ ملائیں گے ، بے جوڑ ہو گا۔جیسا کہ یہاں ہوا ہے۔پھر آگے چل کر فرماتا ہے: هَلْ أَنتُكُمْ عَلَى مَنْ تَنَزَّلُ الشيطين O تَنَزَّلُ عَلَى كُلِّ أَفَاكِ أَثِيمٍ يُلْقُونَ السَّيْعَ وَاكْثَرُهُمْ كَذِبُونَ ) (الشعراء: ۲۲۲ ۲۲۴) کیا میں تمہیں بتاؤں کہ شیطان کس طرح اترتے ہیں؟ شیطان کا تعلق ہر افاک اور اخیم کے ساتھ ہوتا ہے۔یعنی جو بڑا جھوٹ بولنے والا اور گنہگار ہو اس سے شیطان کا تعلق ہوتا ہے۔مگر محمد رسول اللہ لی ایم کے متعلق تو تم خود کہتے ہو کہ اس سے بڑھ کر سچا اور کوئی نہیں۔اس کے امین ہونے کے بھی تم قائل ہو۔پھر اس پر شیطان کا تصرف کس طرح ہو سکتا ہے ؟ پھر فرماتا ہے : اِن الشَّيطِينَ ليُوحُونَ إِلَى أَوْلِيهِمْ لِيُجَادِلُوكُمْ (الانعام : ۱۲۲) که شیطان تو اپنی وحی شیطانوں کی طرف کرتا ہے تاکہ وہ تم سے جھگڑیں۔مومنوں کی طرف نہیں کرتا۔اب دیکھو وہ روایتیں جو بیان کی جاتی ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کیسا خطرناک الزام لگاتی ہیں۔شیطان تو اپنے دوست کو ہی کہے گا کہ یہ ہتھیار لے جا اور لڑ۔کسی مسلمان کو وہ اپنے خلاف کس طرح بتائے گا۔اسی طرح سورہ محل رکوع ۱۳ میں آتا ہے: اِنَّهُ لَيْسَ لَهُ سُلْطَنَّ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَ عَلى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ ، إِنَّمَا سُلْطَنُهُ عَلَى الَّذِيْنَ يَتَوَلَّوْنَهُ وَ الَّذِينَ هُمْ بِهِ مُشْرِكُونَ (النحل: ۱۰۰، ۱۰۱) یعنی شیطان کا مومنوں پر کوئی تسلط نہیں ہو سکتا جو خدا پر توکل رکھتے ہیں۔شیطان کی حکومت تو انہی پر ہوتی ہے جو اس کے دوست ہوتے ہیں اور اس کے ساتھ شرک کرتے ہیں۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو ساری عمر شرک کارڈ کرتے رہے۔ان سے شیطان کا کیا تعلق ہو سکتا ہے۔“ (فضائل القرآن نمبر ۴، انوار العلوم جلد ۱۲ صفحه ۲۴۹ تا ۴۵۳)