صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 141
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۱۴۱ ۶۵ کتاب التفسير والنجم اس روایت کو اتنے طریقوں سے بیان کیا گیا ہے کہ ابن حجر جیسے آدمی کہتے ہیں کہ اس کی تاویل کی ضرورت ہے۔گو تاریخی طور پر یہ روایت بالکل غلط ہے اور میں ثابت کر سکتا ہوں کہ یہ محض جھوٹ ہے مگر اس وقت میں کسی تاویل میں نہیں پڑتا۔میں صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ قرآن اس کے متعلق کیا کہتا ہے اور کیا واقعہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا ہوا؟ اس موقع پر میں ایک مسلمان بزرگ کا قول بھی بیان کرتا ہوں جو مجھے بے انتہا پسند ہے۔میں تو جب بھی یہ قول پڑھتا ہوں ان کیلئے دعا کرتا ہوں۔یہ بزرگ قاضی عیاض ہیں۔وہ فرماتے ہیں: شیطان نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر تو کوئی تصرف نہیں کیا البتہ بعض محدثین کے قلم سے شیطان نے یہ روایت لکھوادی ہے۔گویا اگر شیطان کا تسلط کسی پر کرانا ہی ہے تو کیوں نہ محدثین پر کرایا جائے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو درمیان میں کیوں لایا جائے۔۔قرآن کریم نے اس کا جو جواب دیا ہے وہ اسی جگہ موجود ہے جہاں کہتے ہیں کہ شیطان نے آیتیں نازل کیں۔یعنی تِلْكَ الْغَرَانِيْقُ الْعُلَى، وَإِنَّ شَفَاعَتَهُنَّ لرجی کے بعد کہتے ہیں کہ یہ آیات اتریں: الكُمُ الذَّكَرُ وَ لَهُ الْأُنْثَى تِلْكَ إِذَا قِسْمَةٌ ضِيُرى ٥ إِنْ هِيَ إِلَّا أَسْمَاءُ سَتَيْتُمُوهَا انْتُمْ وَآبَاؤُكُم مَّا أَنْزَلَ اللهُ بِهَا مِن سُلطين (النجم : ۲۲ - ۲۴) فرمایا: کیا تم اپنے لئے تو بیٹے قرار دیتے ہو اور خدا کے لئے لات، منات اور عزی بیٹیاں۔یہ کس قدر بھونڈی تقسیم ہے جو تم نے کی۔یہ نام تم نے اپنے طور پر رکھ لئے ہیں، خدا کی طرف سے نازل نہیں ہوئے۔خدا نے تو ان بتوں کے لئے اتارا ہی کچھ نہیں۔کیا ان آیات کے بعد کوئی شخص ان فقروں کو درمیان میں شامل سمجھ سکتا ہے؟ پس یہ آیات ہی بتا رہی ہیں کہ ان میں وہ فقرے داخل نہیں ہو سکتے۔آخر کفار عربی تو جانتے تھے۔اس کے علاوہ مندرجہ ذیل آیتیں بھی اس حصہ کو رڈ کر رہی ہیں۔فرمایا: وَمَا تنزلتُ بِهِ الشَّيطِيْنُ وَمَا يَنْبَغِي لَهُمْ وَمَا يَسْتَطِيعُونَ (الشعراء:۲۱۱، ۲۱۲)