صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 140
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۱۴۰ ۶۵ کتاب التفسير والنجم عقائد کو بدلنا پڑتا ہے، اپنے خیالات کو تبدیل کرنا پڑتا ہے اور اُس خدا پر ایمان لانا پڑتا ہے جو ظاہری حواس سے نہیں دیکھا جاتا۔پس فرماتا ہے اے مشر کو ! تمہیں ہے حواس خمسہ سے محسوس کرنے کے باوجود بتوں کے وجود میں شُبہ ڈالا جا سکتا۔لیکن حواس خمسہ سے بالا وجود الہی کے بارہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو محبہ میں نہیں ڈالا جا سکتا۔اس تقابل سے صاف ظاہر ہے کہ تم نے اپنے بتوں کو دیکھتے ہوئے نہیں دیکھا لیکن محمد رسول اللہ صلی الی تم نے اُسے دیکھا جسے اور لوگ نہیں دیکھ سکتے۔پھر تمہیں تو حواس خمسہ سے دیکھنے کے باوجود دھوکا لگ گیا لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حواس خمسہ سے بالا وجود الہی کے دیکھنے میں کوئی دھوکا نہ لگا اور وہ ساری دنیا کو اُسی خدا کی طرف کھینچ کر لے گیا۔یہی وہ مقام ہے جس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی ایک جگہ تحریر فرمایا ہے کہ ”جیسا کہ آفتاب اور اُس کی روشنی کو دیکھ کر کوئی شک نہیں کر سکتا کہ یہ آفتاب اور یہ اُس کی روشنی ہے ایسا ہی میں اُس کلام میں بھی شک نہیں کر سکتا جو خداتعالی کی طرف سے میرے پر نازل ہوتا ہے۔ل۔یہ وہی بات ہے جو اس آیت میں بیان کی گئی ہے کہ مشرک لات ، منات اور غریبی کو اپنے حواس خمسہ سے دیکھنے کے باوجود اُن کو دیکھنے میں غلطی کر رہے ہیں لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُس ہستی کو دیکھ کر غلطی نہیں کر رہا جو ان حواسِ خمسہ سے نہیں دیکھی جاسکتی۔“ (اسوہ حسنہ، انوار العلوم جلد ۱۷ صفحه ۸۳٬۸۲) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کفار کا یہ بھی اعتراض تھا کہ اس پر شیطان اترتا ہے۔افسوس ہے کہ مسلمانوں نے اس اعتراض کو اور پکا کر دیا ہے اور کفار کے ہاتھ میں ایک ہتھیار دے دیا ہے۔وہ اس طرح کہ وہ بیان کرتے ہیں کہ شیطان نے أَفَرَوَيْتُمُ اللَّهَ وَالْعلی وَ مَنُونَ الثَّالِثَةَ الْأُخْرى کے بعد یہ کلمات آپ کی زبان پر جاری کر دیئے کہ وَتِلْكَ الْغَرَانِيقُ الْعُلَى، وَإِنَّ شَفَاعَتَهُنَّ لَتُرْتَجَى۔۔۔(تجلیات الہیہ ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۴۱۲)