صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 139 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 139

صحیح البخاری جلد ۱۲ صا الله سلام جا الله ۱۳۹ ۶۵ - کتاب التفسير / والنجم لی ایم کا حال ہے۔ اس کے مقابلہ میں کفار و مشرکین جو کہتے ہیں کہ ہم لات کو خدا مانتے ہیں، ہم عربی کو خدا مانتے ہیں، ہم منات کو خدا مانتے ہیں اُن کی حالت بھی دیکھو۔ فرماتا ہے لات ، منات اور عربی تو ایسی چیزیں ہیں جو حواس خمسہ سے دیکھی اسکتی ہیں۔ تم لات، منات اور عربی کو آنکھوں سے دیکھ سکتے ہو، ہاتھوں سے چھو سکتے ہو ان پر جو تیل وغیرہ تلا جاتا ہے اُس کی خوشبو اپنی ناک سے سُونگھ سکتے ہو، اُن بتوں کو ٹھکور کر اُن کی آوازیں سن سکتے ہو، اُنہیں زبان لگا کر چکھ سکتے ہو۔ غرض ہر طرح ان بتوں کو دیکھا جا سکتا ہے اور تم دعوی بھی کرتے ہو کہ ہم نے اپنے ان خداؤں یعنی لات، منات اور عربی کو خوب دیکھا ہوا ہے پھر یہ کیا بات ہے کہ محمد رسول اللہ صلی علیم کی تعلیم کے نتیجہ میں تم لات ، منات اور عربی کے تو منکر ہو جاتے ہو جن کو تم اپنے پانچوں حواسوں سے دیکھ رہے ہو اور محمد رسول اللہ صلی الیہ کے اس خدا کا وجود لوگوں سے منوا لیتے ہیں جسے نہ آنکھوں سے دیکھا جا سکتا ہے، نہ ہاتھوں سے چھوا جا سکتا ہے، نہ زبان سے چکھا جا سکتا ہے اور نہ اُس کا کلام ان مادی کانوں سے سنا جا سکتا ہے۔ گویا پانچوں حواس ظاہری سے بتوں کو دیکھنے کے باوجود تم میں طاقت نہیں کہ تم محمد محمد رسول اللہ صلی السلام کے ایمان میں خلل ڈال کر دکھا سکو لیکن محمد رسول اللہ صلی اعلام تمہیں باوجود ان بتوں کو اپنے تمام ظاہری حواس سے دیا دیکھنے کے شبہ میں ڈال دیتے ہیں اور تمہیں ان بتوں کی بجائے اُس خدا کی طرف لے جاتے ہیں جسے کوئی بھی اپنے ظاہری حواس سے نہیں دیکھ رہا۔ یہ کتنی زبر دست دلیل ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کی دلیل اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی کہ دیکھنا تو اُس کا ہوتا ہے جو دیکھنے کے بعد اپنی رؤیت میں کسی قسم کا شک نہ کر سکے مگر مشرکوں کی تو یہ حالت ہے کہ وہ اُن چیزوں کو دیکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں جنہیں ظاہری حواس خمسہ سے معلوم کیا جا سکتا ہے، جنہیں ظاہری حواس سے پہچانا جا سکتا ہے مگر باوجود اس کے کہ وہ ان چیزوں کو دیکھنے کے مدعی ہیں جو حواس خمسہ سے نظر آجاتی ہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کے سامنے نہیں ٹھہر سکتے۔ انہیں اپنے بتوں کو توڑنا پڑتا ہے، اپنے