صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 138 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 138

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۱۳۸ ۶۵ - کتاب التفسير والنجم قَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ كُنَّا لَا نَطُوفُ بَيْنَ پکارا کرتے تھے اور مناۃ مکہ اور مدینہ کے درمیان الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ تَعْظِيمًا لِمَنَاةَ نَحْوَهُ۔ ایک بت تھا۔ انہوں نے کہا: اللہ کے نبی! ہم مناة کی عظمت کی وجہ سے صفا اور مروہ کے درمیان أطرافه: ١٦٤٣، ١٧٩٠، ٤٤٩٥۔ طواف نہیں کیا کرتے تھے۔ (معمر نے) پھر اسی طرح بیان کیا (جیسے سفیان نے بیان کیا۔) تشریح : أَفَرَعَيْتُمُ الله وَالعُری : حضرت ابن عباس بیان عباس بیان کرتے ہیں کہ لات نام کا ایک آدمی تھا جو حجاج کے لئے ستو گھولا کرتا تھا۔ مجاہد نے بیان کیا ہے کہ یہ آدمی زمانہ جاہلیت میں طائف کی ایک چٹان پر بیٹھا ہوتا اور طائف کی کشمش اور پنیر سے ایک حلوہ بنا کر لوگوں کو کھلاتا۔ ابن کلبی نے اس کا نام صرمہ بن غنم نقل کیا ہے۔ جب یہ فوت ہو گیا تو لوگوں نے اس کا ثبت بنا کر اس کی عبادت شروع کر دی۔ اس ثبت کو حضرت مغیرہ بن شعبہ نے اُس وقت منہدم کیا جب طائف کے قبیلہ ثقیف نے اسلام قبول کیا۔ دو سر ابت عزبی تھا۔ یہ وادی نخلہ میں عبادت کے لئے بنایا گیا۔ حضرت خالد بن ولید نے فتح مکہ کے سال اس بت کو توڑا۔ تیسر ابت مناہ تھا جولات سے بھی پہلے کا تھا۔ اس کو حضرت علیؓ نے فتح مکہ کے سال توڑا۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۷۷۹،۷۷۸) حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ کی قدرت نمائی کا جو مشاہدہ عربوں کو کرایا گیا، اس سے صنم پرستی سے اُن کے دل بیزار ہو چکے تھے۔ صرف ایک خیالی ڈر اور وہم تھا جس کا بت شکنی سے قلع قمع کیا گیا۔ اسلام مذہب کی آزادی کا حامی ہے اور کسی کے دین میں دخل دینا یا زبردستی سے اپنا عقیدہ منوانے کے خلاف ہے اور حجت و براہین کا قائل ہے۔ پندرہ بیس سال کی متواتر جد و جہد سے ارض حجاز و عرب کی کایا پلٹ چکی تھی اور حجت، براہین اور الہی تجلیات کے مشاہدات سے ذہن و قلب اسلام کو خود قبول کرنے کے لئے مستعد تھے۔ اس لئے مجاہدین کے ہاتھوں سے جو بت توڑے گئے اور مندر مسمار کر دیئے گئے، اس کی نوعیت بالکل اور ہے۔ یہ لا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ سے بالکل مغایر نہیں۔“ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ( صحیح بخاری ترجمه و شرح، کتاب المغازی، باب ۶۰، جلد ۹ صفحه ۲۱۰) أَفَرَوَ يَتُمُ اللَّهَ وَالْعُزَّى وَ مَنُوةَ الثَّالِثَةَ الْأُخْرَى فرماتا ہے یہ تو ا یہ تو محمد رسول اللہ