صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 135
صحیح البخاری جلد ۱۲ الله ۶۵ - کتاب التفسير والنجم بَاب لَقَدْ رَأَى مِنْ أَيْتِ رَبِّهِ الكُبرى ( النجم : (١٩) یہ فرمانا:) اس وقت اس نے اپنے رب کی بڑی نشانیوں میں سے ایک بڑی نشانی دیکھی ٤٨٥٨ : حَدَّثَنَا قَبِيصَةٌ حَدَّثَنَا ۴۸۵۸: قبیصہ (بن عقبہ ) نے ہم سے بیان کیا کہ سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ سفیان ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُوْدٍ سے ، اعمش نے ابراہیم (شخصی) سے، ابراہیم نے رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَقَدْ رَأَى مِنْ أَيْتِ رَبِّهِ علقمہ سے، علقمہ نے حضرت عبداللہ بن مسعود الكبرى (النجم : (۱۹) قَالَ رَأَى رَفْرَفًا رضی اللہ عنہ سے روایت کی (کہ آیت) لقد رأی مِنْ أَيْتِ رَبِّهِ الکبری ( کے متعلق حضرت عبداللہ أَحْضَرَ قَدْ سَدَّ الْأُفُقَ۔ طرفه: ۳۲۳۳ بن مسعودؓ نے) کہا: آپ نے ایک سبز فرش دیکھا کہ جس نے افق کو ڈھانپ لیا ہوا تھا۔ تشريح ۔ لَقَدْ رَأَى مِنْ أَيْتِ رَهِ الكُبرى: یعنی اس وقت اس نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیوں میں سے ایک بڑی نشانی دیکھی۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ للہ عنہ فرماتے ہیں: محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف ظاہر کو نہیں دیکھا بلکہ دای مِنْ أَيْتِ رَبِّهِ الكبری اس نے اپنے رب کے بڑے بڑے نشانات کو دیکھا۔ ایک رؤیت ایسی ہوتی ہے جس میں دشمن بھی شریک ہوتا ہے۔ جیسے ایک چور بھی حج کو دیکھتا ہے اور اُس کے بیوی بچے بھی اُس کو دیکھتے ہیں۔ لیکن فرماتا ہے : ہمیں جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تو ہم اُس سے ایک محبت کرنے والے دوست کی طرح ملے اور اُس نے ہمارے بڑے بڑے نشانات دیکھے ۔ “ (اسوہ حسنہ، انوار العلوم، جلد ۷ اصفحہ ۸۱-۸۲) حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: امام بخاری کا اس تصرف سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رویت ما زاغ الْبَصَرُ وَمَا طَغَى لَقَدْ رَأَى مِنْ أَيْتِ رَبِّهِ الكُبرى (النجم : ۱۸، ۱۹) کی نوعیت دکھلانا مقصود ہے کہ وہ نزدیک و دور کے واقعات و حادثات پر حاوی ہے۔ انہی واقعات کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَلَقَدْرَاهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ وَمَا هُوَ