صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 135 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 135

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۱۳۵ ۶۵ کتاب التفسير والنجم بَاب لَقَدْ رَأَى مِنْ أَيْتِ رَبِّهِ الكبرى (النجم : ١٩) (یہ فرمانا :) اس وقت اس نے اپنے رب کی بڑی نشانیوں میں سے ایک بڑی نشانی دیکھی ٤٨٥٨ : حَدَّثَنَا قَبِيصَةٌ حَدَّثَنَا ۴۸۵۸: قبیصہ ( بن عقبہ) نے ہم سے بیان کیا کہ سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ سفیان ثوری) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اعمش عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُوْدٍ سے، اعمش نے ابراہیم (شخصی) سے، ابراہیم نے اللهُ عَنْهُ لَقَدْ رَأَى مِنْ آیتِ رَبِّهِ علقمہ سے علقمہ نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رَضِيَ الكبرى (النجم : ۱۹) قَالَ رَأَى رَفْرَفًا رضی اللہ عنہ سے روایت کی (کہ آیت) لقد رای مِنْ أَيْتِ رَبِّهِ الکبری ( کے متعلق حضرت عبد الله أَحْضَرَ قَدْ سَدَّ الْأُفُقَ۔طرفه: ۳۲۳۳۔تشریح: بن مسعودؓ نے) کہا: آپ نے ایک سبز فرش دیکھا کہ جس نے افق کو ڈھانپ لیا ہوا تھا۔يح۔لَقَدْ رَى مِنْ ايْتِ رَبِّهِ الكبری: یعنی اس وقت اس نے اپنے رب کی بڑی نشانیوں میں سے ایک بڑی نشانی دیکھی۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف ظاہر کو نہیں دیکھا بلکہ رأى مِنْ أَيْتِ رَبِّهِ الكبرى اُس نے اپنے رب کے بڑے بڑے نشانات کو دیکھا۔ایک رؤیت ایسی ہوتی ہے جس میں دشمن بھی شریک ہوتا ہے۔جیسے ایک چور بھی بج کو دیکھتا ہے اور اُس کے بیوی بچے بھی اُس کو دیکھتے ہیں۔لیکن فرماتا ہے : ہمیں جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تو ہم اس سے ایک محبت کرنے والے دوست کی طرح ملے اور اُس نے ہمارے بڑے بڑے نشانات دیکھے۔“ (اسوہ حسنہ، انوار العلوم، جلد۷ اصفحہ ۸۱-۸۲) حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: امام بخاری کا اس تصرف سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رؤیت مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَى لَقَدْ رَأَى مِنْ أَيْتِ رَبِّهِ الكبرى (النجم : ۱۸، ۱۹) کی نوعیت دکھلانا مقصود ہے کہ وہ نزدیک و دور کے واقعات و حادثات پر حاوی ہے۔انہی واقعات کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَلَقَدْرَاهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ وَمَا هُوَ