صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 134
حیح البخاری جلد ۱۲ ۱۳۴ - ۶۵ کتاب التفسير والنجم مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ اَطَاعَ الله (النساء : (۸) وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللهَ رَلى (الانفال: ۱۸) “ (حقائق الفرقان جلد ۴ صفحه ۲۸،۲۷) حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنی نوع انسان کے لئے شفیع قرار دیئے گئے ہیں جو کامل اور ابدی واسطہ اتصال ہیں ان کے اور معبودِ حقیقی کے درمیان۔ان آیات کا سیاق کلام کامل ارتقاء اور معراج ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہوا۔جس کے معنی ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اول و آخر ، آغاز و انجام، دنیا و آخرت اور آپ کی شان عظمت مآب خارق عادت اور حیرت انگیز ہے۔“ ( صحیح بخاری ترجمه و شرح، کتاب بدء الخلق، باب إذا قَالَ أَحَدُكُمْ آمِينَ، جلد ۶ صفحه ۲۸) بَاب فَأوحى إلى عَبْدِهِ مَا أوحى (النجم : ١١) پس اس نے اپنے بندے کی طرف وہی وحی نازل کی جس کا وہ فیصلہ کر چکا تھا ٤٨٥٧: حَدَّثَنَا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ :۴۸۵۷ طلق بن غنام نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنِ الشَّيْبَانِي قَالَ سَأَلْتُ زائده ( بن قدامہ کوفی) نے ہمیں بتایا۔انہوں زِرًّا عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْن نے (سلیمان) شیبانی سے روایت کی۔انہوں نے او ادنى فاولى إلى عَبْدِهِ مَا اَولیں کہا: میں نے زر سے اللہ تعالیٰ کے اس قول فگان (النجم : ١١،١٠) قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَا اولی کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: ہمیں حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ) نے بتایا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل کو دیکھا، أَنَّهُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى جِبْرِيلَ لَهُ سِتُّ مِائَةِ جَنَاحٍ۔أطرافه: ٣٢٣٢، ٤٨٥٦- ان کے چھ سو پینکھ تھے۔ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : ”جو اس رسول کی پیروی کرے تو اس نے اللہ کی پیروی کی۔“ ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : ” اور (اے محمد !) جب تو نے (ان کی طرف کنکر پھینکے تو تو نے نہیں پھینکے بلکہ اللہ ہے جس نے پھینکے۔“ ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : " پس وہ دو قوسوں کے وتر کی طرح ہو گیا یا اس سے بھی قریب تر۔پس اس نے اپنے بندے کی طرف وہ وحی کیا جو بھی وحی کیا۔“