صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 133 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 133

یح البخاری جلد ۱۲ مِائَةِ جَنَاحٍ۔أطرافه: ٣٢٣٢ ٤٨٥٧۔۱۳۳ ۶۵ کتاب التفسير والنجم کہا: ہم سے حضرت ابن مسعودؓ نے یہ بیان کیا کہ آپ نے جبرائیل کو دیکھا، ان کے چھ سو پنکھ تھے۔تشریح : فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْن او ادنی اور وہ دونوں دو کمانوں کے متحدہ وتر کی شکل میں تبدیل ہو گئے اور ہوتے ہوتے اس سے بھی زیادہ قرب کی صورت اختیار کرلی۔حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: عرب کا دستور تھا۔جب دو آدمی باہم اتحاد پیدا کرتے اور معاہدہ کر لیتے تو دونوں اپنی اپنی کمانیں اس طرح ملاتے کہ ایک کمان کی لکڑی دوسری کی کمان کی لکڑی سے ابتداء تا انتہاء ایک سرے سے دوسرے سرے تک ملائی جاتی اور ایک کمان کی تار دوسری کمان کی تار سے ملائی جاتی۔تب دونوں قوسوں کے دو قاب ایک قاب کی شکل دکھلائی دیتی۔پھر دو کمانوں کو اس طرح ملا کر دونوں معاہدہ کنندے ایک تیر ان دونوں کمانوں، مگر اب ایک ہو گئی ہوئی کمان میں رکھ کر چھوڑتے۔اور یہ رسم عرب کی اس امر کا نشان ہوتا تھا کہ اس وقت کے بعد ایک کمان والے کا دوست دوسرے کمان والے کا دوست ہو گا اور ایک کا دشمن دوسرے کا دشمن قرار پائے گا۔اسی طرح انبیاء اور رسولوں کی پاک ذات کا خاصہ اور ان کی فطرت ہوتی ہے کہ وہ پاک گروہ اور ان کے اتباع، مگر گرویدہ اتباع الْحَبُّ لِله وَ الْبُغْضُ فِی اللہ میں منفر د ہوتے ہیں۔اپنے ہر ایک اعتقاد اور قول اور فعل میں حضرت حق سبحانہ و تعالیٰ کی رضامندی کو مقدم رکھتے ہیں۔اس کے بلائے سے بولتے اور اسی کے چلائے سے چلتے ہیں۔ان کار حم اور ان کا غضب اللہ تعالیٰ کا رحم اور اللہ تعالیٰ کا غضب ہوتا ہے۔ایسی وحدت و اتحاد کا باعث ان کے ہاتھ پر بیعت اور اقرار اللہ تعالیٰ کے ہاتھ پر بیعت اور اسی سے اقرار ہوتا ہے اور اسی اتحاد کا بیان آیات ذیل میں ہے: إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللهَ يَدُ اللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ (الفتح: ١١) ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : یقیناوہ لوگ جو تیری بیعت کرتے ہیں وہ اللہ ہی کی بیعت کرتے ہیں اللہ کا ہاتھ ہے جو اُن کے ہاتھ پر ہے۔“