صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 132 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 132

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۶۵ کتاب التفسير والنجم کھڑے ہو کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں پوری طرح دیکھ سکتے تھے۔“ اسوہ حسنہ، انوار العلوم جلد ۷ اصفحہ ۸۱) ایک اور موقع پر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا: ” خلاصہ کلام یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا معراج تین قسم پر منقسم ہے۔سیر مکانی اور سیر زمانی کے اور سیر لا مکانی " ولا زمانی۔سیر مکانی میں اشارہ ہے طرف غلبہ اور فتوحات پر۔یعنی یہ اشارہ کہ اسلامی ملک مکہ سے بیت المقدس تک پھیلے گا۔اور سیر زمانی میں اشارہ ہے طرف تعلیمات اور تاثیرات کے۔یعنی یہ کہ مسیح موعود کا زمانہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تاثیرات سے تربیت یافتہ ہو گا، جیسا کہ قرآن شریف میں فرمایا ہے: وَ أَخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ (الجمعة: ٤)۔اور سیر لا مکانی و لا زمانی میں اشارہ ہے طرف اعلیٰ درجہ کے قرب اللہ اور مدانات کی، جس پر دائرہ امکانِ قرب کا ختم ہے۔“ (خطبہ الہامیہ ، روحانی خزائن جلد ۱۶ حاشیه صفحه ۲۶) بَاب فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدنى (النجم : ١٠) ( یہ فرمانا:) اور وہ دونوں دو کمانوں کے متحدہ وتر کی شکل میں تبدیل ہو گئے اور ہوتے ہوتے اس سے بھی زیادہ قرب کی صورت اختیار کرلی (اتنا قریب ہو گیا) جتنا کمان سے چلہ ہوتا ہے۔حَيْثُ الْوَتَرُ مِنَ الْقَوْسِ۔٤٨٥٦ : حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا ۴۸۵۶: ابونعمان نے ہم سے بیان کیا کہ عبد الواحد عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ قَالَ (بن زیاد نے ہمیں بتایا۔(سلیمان) شیبانی نے سَمِعْتُ زِدًّا عَنْ عَبْدِ اللهِ فَكَانَ قَابَ ہم سے بیان کیا، کہا: میں نے زر (بن حبیش) سے قَوْسَيْن او ادنی فَاوْحَى إِلى عَبْدِهِ مَا سنا۔زر نے حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ ) سے أولى (النجم : ۱٠ ، ۱۱) قَالَ حَدَّثَنَا فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ ابْنُ مَسْعُودٍ أَنَّهُ رَأَى جِبْرِيلَ لَهُ سِتَّ مَا اولى ل ( کے متعلق) روایت کرتے ہوئے ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : " پس وہ دو قوسوں کے وتر کی طرح ہو گیا یا اس سے بھی قریب تر۔پس اس نے اپنے بندے کی طرف وہ وحی کیا جو بھی وحی کیا۔“