صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 131 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 131

يح البخاری جلد ۱۲ ۱۳۱ - ۶۵ کتاب التفسير والنجم تشریح : مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَى: روایت زیر باب میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے رویت : جسمانی کا عقیدہ رکھنے والوں کی اصلاح فرماتے ہوئے بیان کیا ہے کہ جس نے تم سے یہ کہا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا اس نے یقینا غلط کہا۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت سے اس امر کی مزید وضاحت ہو جاتی ہے۔آپ نے فرمایا: آیت کریمہ مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأى (النجم : ١٢) سے مراد یہ ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے دل کی آنکھ سے دیکھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس مکاشفہ کے متعلق سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”ہمارا ایمان ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج ہوا تھا۔مگر اس میں جو بعض لوگوں کا عقیدہ ہے کہ وہ صرف ایک معمولی خواب تھا، سو یہ عقیدہ غلط ہے۔اور جن لوگوں کا عقیدہ ہے کہ معراج میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اسی جسد عنصری کے ساتھ آسمان پر چلے گئے تھے، سو یہ عقیدہ بھی غلط ہے۔بلکہ اصل بات اور صحیح عقیدہ یہ ہے کہ معراج کشفی رنگ میں ایک نورانی وجود کے ساتھ ہوا تھا۔وہ ایک وجود تھا مگر نورانی اور ایک بیداری تھی مگر کشفی اور نورانی جس کو اس دنیا کے لوگ نہیں سمجھ سکتے مگر وہی جن پر وہ کیفیت طاری ہوئی ہو۔ورنہ ظاہری جسم اور ظاہری بیداری کے ساتھ آسمان پر جانے کے واسطے تو خود یہودیوں نے معجزہ طلب کیا تھا جس کے جواب میں قرآن شریف میں کہا گیا تھا: قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا رَّسُولاً (بنی اسرائیل: ۹۴) کہہ دے میر ارب پاک ہے میں تو ایک انسان رسول ہوں۔انسان اس طرح اُڑ کر کبھی آسمان پر نہیں جاتے۔یہی سنت اللہ قدیم سے جاری ہے۔“ ( ملفوظات جلد ۴ صفحہ ۶۴۶) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”دیکھو! یہ کتنا کامل نقشہ محمد رسول اللہ صلی ال یام کی رویت کا کھینچا گیا ہے کہ نہ تو جب محمد رسول اللہ صلی ا یم نے خدا تعالیٰ کو دیکھا اُس وقت ایسی حالت تھی کہ خدا تعالیٰ بہت دور تھا اور محمد رسول اللہ صلی للی کم کی نظر اتنی دُور نہ دیکھ سکتی ہو۔اور جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دیکھا تو یہ بھی نہیں تھا کہ ہم اتنے قریب ہوتے که محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر دُور چلی جاتی۔ہم وہیں کھڑے تھے جہاں (صحیح مسلم، کتاب الإيمان، باب معتى قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلَقَدْ رَاهُ نَزْلَةٌ أُخْرَى)