صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 130
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۱۳۰ ۶۵ - کتاب التفسير والنجم مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَبَّہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: اُم المؤمنین فَقَالَتْ لَقَدْ قَفَّ شَعَرِي مِمَّا قُلْتَ کیا حضرت محمد صلی ہم نے اپنے رب کو دیکھا تھا؟ أَيْنَ أَنْتَ مِنْ ثَلَاثٍ مَنْ حَدَّثَكَهُنَّ فَقَدْ انہوں نے فرمایا: جو تم نے پوچھا ہے اس سے تو میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے ہیں، تم تین باتوں میں كَذَبَ مَنْ حَدَّثَكَ أَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى کہاں چلے جاتے ہو۔جس نے تم سے یہ باتیں بیان اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَبَّهُ فَقَدْ كَذَبَ میں اس نے یقیناً جھوٹ بولا۔جس نے تم سے یہ ثُمَّ قَرَأَتْ لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَ هُوَ بیان کیا کہ حضرت محمدصلی الی الم نے اپنے رب کو دیکھا يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَ هُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ اس نے یقیناً جھوٹ بولا۔پھر یہ آیتیں پڑھیں: لا (الأنعام: ١٠٤) وَمَا كَانَ لِبَشَرِ أَنْ تُدْرِكة یعنی نظریں اس تک نہیں پہنچ سکتیں، لیکن تكلمه اللهُ إِلَّا وَحْيَا أَو مِنْ وَرَاي وہ نظروں تک پہنچتا ہے۔اور وہ مہربانی کرنے والا حجاب (الشوری: ٥٢) وَمَنْ حَدَّثَكَ (اور) حقیقت پر آگاہ ہے۔وَمَا كَانَ۔۔۔یعنی اور کسی انسان کی طاقت نہیں کہ اللہ اس سے بات أَنَّهُ يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ فَقَدْ كَذَبَ ثُم کرے مگر یہ کہ وحی سے یا پردہ کے پیچھے سے۔اور قَرَأَتْ { وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ جس نے تم سے یہ بیان کیا کہ آپ جانتے تھے کہ غدا (لقمان: ٣٥) وَمَنْ حَدَّثَكَ إِنَّهُ کل کیا ہو گا تو اس نے یقیناً جھوٹ بولا۔یہ کہہ کر كَتَمَ فَقَدْ كَذَبَ ثُمَّ قَرَأَتْ يَاأَيُّهَا حضرت عائشہ نے یہ آیت پڑھی: وَمَا تَدُدی یعنی الرَّسُولُ بَلغ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ کل وہ کیا عمل کرے گا۔اور جس نے تم سے یہ بیان کیا کہ آپ نے (وحی (المائدة: ٦٨) الآيَةَ وَلَكِنْ رَأَى جِبْرِيلَ سے) کچھ چھپایا ہے تو اس نے یقیناً جھوٹ بولا۔یہ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِي صُورَتِهِ مَرَّتَيْنِ۔کہہ کر حضرت عائشہ نے یہ آیت پڑھی: یایھا الرسول یعنی اے رسول ! جو بھی تیری طرف تیرے رب کی طرف سے نازل کیا گیا ہے اس کو أطرافه : ا۔اچھی طرح پہنچا دے۔البتہ آپ نے جبرائیل اسلام کو ان کی اپنی صورت میں دو دفعہ دیکھا۔-۷ ۳۱ ،۷۳۸۰ ،٤٦١٢ ،۳۲۳۵ ،۳۲۳٤ : یہ الفاظ عمدۃ القاری کے مطابق ہیں۔(عمدۃ القاری جزء ۱۹ صفحہ ۱۹۸) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔