صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 129 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 129

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۱۲۹ ۶۵ کتاب التفسير والنجم حضرت خلیفۃ المسیح الرابع فرماتے ہیں: اس سورت کا نام النّجیم ہے اور پہلی سورت کے آخر پر بھی ادبار النجوم کا ذکر ہے۔اس کے بعد مضمون کو مشرکوں کی طرف پھیر ا گیا ہے۔اور وہ ستارہ جس کی مشرک عبادت کیا کرتے تھے اس کے گر جانے کی پیشگوئی فرمائی گئی ہے۔رو ( ترجمہ قرآن کریم حضرت خلیفة المسیح الرابع، تعارف سورة النجم ، صفحہ ۹۵۹) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: وَ النَّجْمِ إِذَا هَوَى (النجم : ۲) کا بھی یہی مطلب ہے۔جب کبھی خدا تعالیٰ کا کوئی نشان زمین پر ظاہر ہونے والا ہوتا ہے تو اس سے پہلے آسمان پر کچھ آثار ظاہر ہوتے ہیں۔بڑے بڑے مفسر اور اہل کشف بھی یہی بیان کرتے ہیں اور قرآن شریف میں بھی یہی لکھا ہے۔مجھے ایک خط آیا تھا کہ ایک ستارہ ٹوٹا جس سے بہت وشنی ہو گئی اور پھر ایسی خطرناک آواز آئی کہ لوگ دہشت ناک ہو گئے اور بڑا خوف ہوا۔اور پھر نہیں معلوم کہ آئندہ ابھی کیا کیا ہونے والا ہے۔آئے دن نئے نئے حوادث ہوتے رہتے ہیں۔کوئی سال ایسا نہیں گذرتا جس میں کوئی نہ کوئی حادثہ واقع نہ ہو۔ستاروں کا ٹوٹنا ظاہر کرتا ہے کہ زمین پر بھی اب کچھ نشانات ظاہر ہونے والے ہیں۔اور پھر خدا تعالیٰ نے بھی مجھ پر ظاہر کیا ہے کہ میں بہت سے عجیب نشان ظاہر کروں گا، کچھ اوّل میں اور کچھ آخر میں۔زلزلہ کی خبر بھی اس نے دی ہے۔گذشتہ کی نسبت زیادہ سخت طاعون پڑنے کی بھی اطلاع دی ہے۔معلوم نہیں کہ اس سال وہ خطرناک طاعون پڑے گی یا آئندہ سال میں، مگر وہ خطر ناک بہت ہو گی۔“ (ملفوظات جلد پنجم صفحہ ۲۸۱) باب ۱ ٤٨٥٥: حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا ۳۸۵۵: يحي بن موسیٰ) نے ہم سے بیان کیا کہ وَكِيعٌ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنْ وکیچ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اسماعیل بن ابی خالد عَامِرٍ عَنْ مَّسْرُوقٍ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ سے ، اسماعیل نے عامر (شعی) سے ،عامر نے مسروق رَضِيَ اللهُ عَنْهَا يَا أُمَّتَاهُ هَلْ رَأَى سے روایت کرتے ہوئے بتایا۔انہوں نے کہا: میں