صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 128
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۱۲۸ ۶۵ -٢ كتاب التفسير والنجم طرح دیکھا۔گویا انہوں نے توجہ سے بھی دیکھا اور اُن کی نظر بھی صحیح طور پر پہنچی۔ایسا نہیں ہوا کہ اُن کی نگاہ درے ہی رہ گئی ہو۔پھر فرماتا ہے: وَمَا طغی۔بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی قریب کی نظر کمزور ہوتی ہے، ڈور کی نظر اچھی ہوتی ہے اسی وجہ سے دونوں قسم کی عینکیں ہوتی ہیں۔جن کی قریب کی نظر کمزور ہوتی ہے اُن کو اور قسم کی عینک لگانی پڑتی ہے اور جن کی ڈور کی نظر کمزور ہوتی ہے اُن کو اور قسم کی عینک لگانی پڑتی ہے۔میں بھی ڈور کی چیز کو اچھی طرح نہیں دیکھ سکتا۔لوگ یہاں جلسہ گاہ میں بیٹھے ہیں مگر مجھے اُن کی صرف سفید سفید پگڑیاں نظر آتی ہیں شکلیں صحیح طور پر نظر نہیں آتیں لیکن دوسری طرف اگر میں عینک لگا کر اپنے نوٹ پڑھنا چاہوں تو نہیں پڑھ سکتا۔گویا میری قریب کی نظر اچھی ہے ڈور کی نظر اچھی نہیں۔تو دنیا میں لوگوں کی آنکھوں میں دو قسم کے نقص ہوا کرتے ہیں۔بعض لوگ قریب کی چیز کو اچھی طرح دیکھ لیتے ہیں دُور کی چیز کو اچھی طرح نہیں دیکھ سکتے اور بعض لوگ ڈور کی چیز کو اچھی طرح دیکھ لیتے ہیں قریب کی چیز کو اچھی طرح نہیں دیکھ سکتے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: مَا زاغ البصر - محمد رسول اللہ صلی الہ ولیم نے جب ہمیں دیکھا اُن کی نظر کا فوکس بالکل اُسی جگہ پر تھا جہاں اس کو پہنچنا چاہئے تھا۔نہ اُس مقام کے لحاظ سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شارٹ سائیڈ تھے اور نہ لانگ سائیٹنڈ تھے۔یعنی نہ تو ہم اتنے دُور تھے کہ اُن کی نظر قریب ہی رہ جاتی اور ہم دُور رہتے اور نہ ہم اتنے قریب تھے کہ اُن کی نظر ڈور نکل جاتی اور ہم پیچھے رہ جاتے۔گویا نہ تو محمد رسول اللہ صل ایم کی نظرورے رہ گئی اور ہم پڑے رہ گئے۔کیونکہ آپ ایسے نہ تھے کہ آپ صرف قریب کی چیز کو دیکھ سکیں ڈور کی چیز کو نہ دیکھ سکیں۔اور نہ ایسا ہوا کہ ہم درے رہ گئے ہوں اور اُن کی نظر پرے چلی گئی ہو۔گویا نہ آپ شارٹ سائیٹڈ تھے اور نہ لانگ سائیٹڈ تھے۔یہ دونوں نقص محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں نہ تھے۔“ (اسوہ حسنہ ، انوار العلوم جلد ۱۷ صفحہ ۸۰-۸۱) إذا هوى - غاب : یعنی جب وہ ڈوب جائے گا۔فرماتا ہے: وَالنَّجم إذا هوى (النجم : ٢) ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : "قسم ہے ستارے کی جب وہ گر جائے گا۔“