صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 127 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 127

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۱۲۷ ۶۵ کتاب التفسير والنجم ہوں۔خدا تعالیٰ کے لیے ہر تکلیف اور مصیبت کو برداشت کرنے پر آمادہ ہو گئے۔خدا تعالیٰ نے کہا کہ اپنی بیوی کو بے آب و دانہ جنگل میں چھوڑ آ۔انہوں نے فی الفور اس کو قبول کر لیا۔ہر ایک ابتلا کو انہوں نے اس طرح پر قبول کر لیا کہ گویا عاشق اللہ تھا۔درمیان میں کوئی نفسانی غرض نہ تھی۔“ (ملفوظات جلد سوم صفحہ ۵۱۶) ما زاغ البصر سے مراد حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ ہے جس نے دیکھنے میں غلطی نہیں کی۔وَمَا طَفٰی کے معنی ہیں: جتنا دیکھا اُس سے زیادہ بیان نہیں کیا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَى (النجم : ۱۸) یعنی نہ تو اُس کی آنکھ اس وقت کج ہوئی نہ آگے نکل گئی۔(ترجمہ تفسیر صغیر) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: معراج کے دیکھنے میں غلطی کا کوئی امکان نہ تھا۔وہ ایک بلند شان کشف تھا۔صرف عام رویا یا کشف نہ تھا۔“ (تفسیر صغیر، سورہ نجم، حاشیہ آیت (۱۸) نیز فرمایا: اللہ تعالٰی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس غیر متزلزل ایمان کے متعلق جو آپ کو عَلى وَجْهِ الْبَصِيرَت حاصل تھا قرآن کریم میں فرماتا ہے: مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَى لَقَدْ رَأَى مِنْ أَيْتِ رَبِّهِ الكُبرى أَفَرَوَيْتُمُ اللَّهَ وَالْعُدُّى وَمَنْوة الثَّالِثَةَ الأخرى (النجم : ۱۸ - ۲۱) اے لوگو! محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو دیکھا ہے اور دیکھا بھی خوب اچھی طرح ہے۔اس طرح نہیں دیکھتا جیسے لوگ بعض دفعہ جب کسی چیز کو دیکھتے ہیں تو بینائی کے نقص کی وجہ سے اُس کو صحیح طور پر نہیں دیکھ سکتے یاڈور سے دیکھ لیتے ہیں۔فرماتا ہے: دیکھنے میں دو نقص ہو جاتے ہیں۔ایک نقص تو یہ ہوتا ہے کہ انسان کی نظر پوری طرح اُس چیز تک نہیں پہنچتی اور ورے ہی رہ جاتی ہے۔مثلاً ایک شخص سو گز تک اچھی طرح دیکھ سکتا ہے لیکن چیز ڈیڑھ سو گز پر پڑی ہے۔اب یہ لازمی بات ہے کہ ایسا شخص ڈیڑھ سو گز سے اُس چیز کو دیکھے گا تو اپنی بینائی کے اس نقص کی وجہ سے اُسے صحیح طور پر نہیں دیکھ سکے گا۔لیکن فرماتا ہے : محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ہمیں دیکھا تو اُن کی نظر ادھر اُدھر نہیں چلی گئی بلکہ عین صحیح مقام پر پہنچی۔زائغ کے معنی ہوتے ہیں ادھر اُدھر ہو جانا یا ورے رہ جانا۔پس فرماتا ہے: محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ہمیں دیکھا تو اُن کی نظر ایسی نہ تھی کہ وہ درے رہ جاتی۔اُنہوں نے دیکھا اور خوب اچھی