صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 126 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 126

يح البخاری جلد ۱۲ ۱۲۶ ۶۵ کتاب التفسير والنجم تشریح۔ذُومرة - قوة مرة کے ایک معنی قوت اور شدت میں مضبوط ہونے کے ہیں۔اللہ تعالٰی فرماتا ہے : ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوَى (النجم:۷) جس کی قوتیں بار بار ظاہر ہونے والی ہیں اور جو اس وقت اپنی طاقتوں کے اظہار کے لئے اپنے عرش پر مضبوطی سے قائم ہو گیا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: " مرة کے معنوں کا اصل یہ ہے کہ اسقدر تاگہ کو بٹ چڑھایا جائے اور مروڑا جائے کہ وہ پختہ ہو جائے جیسا کہ یہی معنے صاحب تاج العروس شارح القاموس نے کئے ہیں پھر اس لفظ کو مروڑنے اور بٹ چڑھانے سے منتقل کر کے اس کے نتیجہ کی طرف لے آئے یعنی قوت اور طاقت کی طرف جو بٹ چڑھانے کے بعد پیدا ہوتی ہے کیونکہ جب تاگا کو بٹ چڑھایا جاوے پس یہ ضروری امر ہے کہ بٹ چڑھانے کے بعد اس میں قوت اور طاقت پیدا ہو جائے اور ایک سے قومی متین ہو جائے۔پھر یہ لفظ عقل کے معنوں کی طرف منتقل کیا گیا۔کیونکہ عقل بھی ایک طاقت ہے جو بعد محکم کرنے مقدمات اور پختہ کرنے مشاہدات کے پیدا ہوتی ہے۔“ نور الحق حصہ اول، روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۱۶۶) رَبُّ الشعرى سے مراد مِرْزَهُ الْجَوْزَاءِ (ستارے) کا رب ہے۔پوری آیت یہ ہے: وَ أَنَّهُ هُوَ رَبُّ العُری (النجم : ۵۰) اور وہی شعری (ستارے) کا مالک ہے۔(ترجمہ تفسیر صغیر) حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالٰی فرماتے ہیں: ” یہاں شعری سے مراد وہی النجم ہے جسے مشرکوں نے خدا بنار کھا تھا ، (ترجمہ قرآن کریم حضرت خلیفۃ المسیح الرابع، تعارف سورۃ النجم ، صفحہ ۹۶۰) الَّذِی وَٹی یعنی وہ جس نے اپنے فرائض کو پورے طور پر ادا کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: نامرد، بزدل، بے وفا جو خدا تعالیٰ سے اخلاص اور وفاداری کا تعلق نہیں رکھتا بلکہ دغا دینے والا ہے وہ کس کام کا ہے۔اس کی کچھ قدر و قیمت نہیں ہے۔ساری قیمت اور شرف وفا سے ہوتا ہے۔ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کو جو شرف اور درجہ ملا وہ کس بناء پر ملا؟ قرآن شریف نے فیصلہ کر دیا ہے : ابْراهِيمَ الَّذِي وَفي (النجم : ۳۸) ابر ہیم وہ جس نے ہمارے ساتھ وفاداری کی، آگ میں ڈالے گئے مگر انہوں نے اس کو منظور نہ کیا کہ وہ ان کا فروں کو کہہ دیتے کہ تمہارے ٹھاکروں کی پوجا کرتا