صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 125 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 125

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۱۲۵ ۶۵ - کتاب التفسير والنجم ٥٣ - سُوْرَةُ وَالنَّجْمِ وَقَالَ مُجَاهِدٌ: ذُومِرَّةٍ (النجم : ٧) اور مجاہد نے کہا: ذُو مِرَّةٍ کے معنی ہیں زبر دست قُوَّةٍ قَابَ قَوْسَيْنِ (النجم : ١٠) حَيْثُ قوت والا ۔ قَابَ قَوْسَيْنِ سے مراد کمان کے الْوَتَرُ مِنَ الْقَوْسِ۔ ضيزى (النجم : ۲۳) دونوں کنارے ہیں جہاں پر چلہ لگا ہوتا ہے۔ عَوْجَاءُ وَ الذى (النجم : ٣٥) قَطَعَ ضِیری کے معنی ہیں ٹیڑھی۔ اگلی یعنی اُسے عَطَاءَهُ۔ رَبُّ الشَّعرى (النجم : ٥٠) هُوَ دينا موقوف کر دیا۔ رب الشعری سے مراد مر زم مِرْزَمُ الْجَوْزَاءِ الَّذِي وَفي (النجم : ۳۸) الجوزاء (ستارے) کا رب ہے۔ الَّذِی وَفی کے وَفَّى مَا فُرِضَ عَلَيْهِ۔ اَزِفَتِ الْأَزِفَةُ معنی ہیں ہیں کہ وہ جس نے اپنے فرائض کو پورے (النجم : ٥٨) اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ طور پر ادا کیا۔ آزِفَتِ الْأَزِفَةُ کے معنی ہیں وہ گھڑی قریب ہو گئی۔ سیدون کے معنی ہیں غیظ و غضب میں مشغول۔ اور عکرمہ نے کہا: حمیری زبان میں سيدون (النجم : ٦٢) الْبَرْطَمَةُ، وَقَالَ ہو۔ اور جس نے عِكْرِمَةُ: يَتَغَنَّوْنَ بِالْحِمْيَرِيَّةِ۔ وَقَالَ اس کے معنی ہیں گانے بجانے میں لگے ہوئے إِبْرَاهِيمُ: أَفَتُمُرُونَهُ (النجم : ١٣) ہیں۔ اور ابراہیم (شخصی) نے کہا: افترونہ کے أَفَتُجَادِلُونَهُ وَمَنْ قَرَأَ أَفَتَمْرُونَهُ يَعْنِي معنی ہیں کیا تم اس سے جھگڑتے أَفَتَجْحَدُونَهُ مَا زَاغَ الْبَصَرُ (النجم : ۱۸) اس آیت کو یوں پڑھا: أَفَتَرُونَهُ اس نے اس بَصَرُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کے یہ معنی کئے: کیا تم اس کا انکار کرتے ہو۔ ما وما طغى (النجم : ۱۸) وَمَا جَاوَزَ مَا زَاغَ البَصَرُ سے مراد حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم رَأَى فَتَمَارَوا ( القمر : ۳۷) كَذَّبُوا کی آنکھ ہے جس نے دیکھنے میں غلطی نہیں کی۔ وَمَا وَقَالَ الْحَسَنُ : إِذَا هَوَى (النجم : ۲) طغی کے معنی ہیں جتنا دیکھا اس سے زیادہ بیان غَابَ۔ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَغْنى وَ اقْتُی نہیں کیا۔ فتباروا کے معنی ہیں انہوں نے جھٹلایا۔ اور حسن (بصری) نے کہا: اذا هوی جب وہ ڈوب (النجم : ٤٩) أَعْطَى فَأَرْضَى۔ جائے گا۔ حضرت ابن عباس نے کہا: آغنی اور اٹنی کے معنی ہیں اس نے اتنا دیا کہ خوش کر دیا۔