صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 124
حیح البخاری جلد ۱۲ ۱۲۴ ۶۵ - کتاب التفسير والطور خَلَقُوا السَّيُوتِ وَالْاَرْضَ بَلْ لَا يُوقِنُونَ (کہا : ) تو میرا دل اُڑنے لگا۔سفیان کہتے تھے لیکن وو ام عِندَهُمْ خَزَايِنُ رَبَّكَ اَمْ هُمُ میں نے تو صرف زہری کو یہ بیان کرتے ہوئے المصيطرُونَ ( الطور : ٣٦-٣٨) كَادَ سنا۔وہ محمد بن جبیر بن مطعم سے اور محمد بن جبیر قَلْبِي أَنْ يُطِيرَ۔قَالَ سُفْيَانُ فَأَمَّا أَنَا اپنے باپ سے روایت کرتے تھے۔(انہوں نے کہا :) میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی فَإِنَّمَا سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ نماز میں سورۂ طور پڑھتے سنا۔جو بات انہوں نے مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ مجھے زیادہ بتائی وہ میں نے زہری سے نہیں سنی۔سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالطُّورِ لَمْ أَسْمَعْهُ زَادَ الَّذِي قَالُوا لِي۔أطرافه ٧٦٥، ٣٠٥٠ ٤٠٢٣ - تشریح: سمعت النبي ﷺ يَقرأ بالطور : سورۂ طور ابتدائی کی سورتوں میں سے ہے۔امام بخاری نے اس باب میں دوروایات بیان کی ہیں جن میں سورۂ طور کے متعلق یہ ذکر ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نمازوں میں اس سورۃ کی تلاوت کیا کرتے تھے۔كَادَ قَلْبِي أَن تطير: تو میر ادل اُڑنے لگا۔قرآن کریم کی تاثیرات کا حضرت جبیر بن مطعم کا یہ ایک واقعہ نہیں۔بلکہ تاثیرات قرآنی کا دائرہ زمانی و مکانی حدود کو پار کرتا ہر دور میں اعجاز قرآنی کے نمونوں سے بھرا پڑا ہے۔