صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 123 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 123

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۱۲۳ ۶۵ - کتاب التفسير والطور باب ۱ ٤٨٥٣: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ ۴۸۵۳: عبد اللہ بن یوسف (تنیسی) نے ہم سے يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ مُّحَمَّدِ بْن بیان کیا کہ مالک نے ہمیں خبر دی۔انہوں نے عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ محمد بن عبد الرحمن بن نوفل سے ، محمد بن عبد الرحمن زَيْنَبَ ابْنَةِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ نے عروہ بن زبیر ) سے، عروہ نے حضرت زینب قَالَتْ شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ بنت الى سلمہ سے، حضرت زینب نے حضرت ابی صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَشْتَكِى ام سلمہ سے روایت کی۔وہ فرماتی تھیں: میں فَقَالَ طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی رَاكِبَةٌ فَطُفْتُ وَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ کہ میں بیمار ہوں۔آپ نے فرمایا: لوگوں کے پیچھے رہ کر اس حالت میں تم طواف کرو کہ تم سوار ہو۔چنانچہ میں نے طواف کیا اور رسول اللہ صلی الل ولم بیت اللہ کے ایک طرف نماز پڑھ رہے تھے۔عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ يَقْرَأُ بِالطُّورِ وَكِتَب مَّسْطُورٍ (الطور: ٣) آپ والظورِ وَ كتب مسطور پڑھ رہے تھے۔أطرافه: ٤٦٤، ١٦١٩، ١٦٢٦، ١٦٣٣- ٤٨٥٤ : حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا ۴۸۵۴: ( عبد اللہ بن زبیر ) حمیدی نے ہم سے سُفْيَانُ قَالَ حَدَّثُونِي عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ بیان کیا کہ سفیان بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے کہا: لوگوں نے مجھے زہری سے روایت کرتے مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ ہوئے بتایا۔زہری نے محمد بن جبیر بن مطعم سے رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ انہوں نے اپنے باپ (حضرت جبیر بن مطعم نے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی علیکم بِالطُّورِ فَلَمَّا بَلَغَ هَذِهِ الْآيَةَ اَم خُلِقُوا کو مغرب کی نماز میں سورۂ طور پڑھتے سنا۔مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ أَمْ هُمُ الْخَلِقُونَ اَم آپ اس آیت پر پہنچے اَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ۔ترجمہ تفسیر صغیر : "کیا اُن کو بغیر کسی غرض کے پیدا کیا گیا ہے یا وہ خود ہی اپنے خالق ہیں؟ کیا انہوں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے ؟ ( نہیں!) بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ (خالق ارض و سماء پر یقین ہی نہیں رکھتے۔کیا اُن کے پاس تیرے رب کے خزانے ہیں ؟ یادہ داروغے ہیں ؟“