صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 123
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۱۲۳ ۶۵ - كتاب التفسير والطور باب ۱ ٤٨٥٣ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ ۴۸۵۳:عبد اللہ بن یوسف (تنیسی) نے ہم سے يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بیان کیا کہ مالک نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ محمد بن عبد الرحمن بن نوفل سے ، محمد بن عبد الرحمن زَيْنَبَ ابْنَةِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ نے عروہ بن زبیر ) سے ، عروہ نے حضرت زینب قَالَتْ شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ بنت ابی سلمہ سے، حضرت زینب نے حضرت صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَشْتَكِي ام سلمہ سے سے روایت کی۔ وہ فرماتی تھیں: میں فَقَالَ طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی رَاكِبَةٌ فَطُفْتُ وَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ کہ میں بیمار ہوں۔ آپؐ نے فرمایا: لوگوں کے پیچھے رہ کر اس حالت میں تم طواف کرو کہ تم سوار ہو۔ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ چنانچہ میں نے طواف کیا اور رسول اللہ صلی الیم يَقْرَأُ بِالطُّورِ وَكِتَبٍ مَسْطُورٍ بیت اللہ کے ایک طرف نماز پڑھ رہے تھے۔ (الطور : ۳) آپ وَالطُّورِ وَكِتَب مَسْطُورِ پڑھ رہے تھے۔ أطرافه: ٤٦٤ ، ١٦١٩، ١٦٢٦، ١٦٣٣- ٤٨٥٤ : حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا ۴۸۵۴: عبد اللہ بن زبیر) حمیدی نے ہم سے سُفْيَانُ قَالَ حَدَّثُونِي عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ بیان کیا کہ سفیان بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں الله رضي عنه مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ نے کہا: لوگوں نے مجھے زہری سے روایت کرتے ہوئے بتایا۔ زہری نے محمد بن جبیر بن مطعم سے، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ انہوں نے اپنے باپ (حضرت جبیر بن مطعم کے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ کیم بِالطُّورِ فَلَمَّا بَلَغَ هَذِهِ الْآيَةَ اَمْ خُلِقُوا کو مغرب کی نماز میں سورۂ طور پڑھتے سنا۔ جب مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ أَمْ هُمُ الْخَلِقُونَ أَمْ آپ اس آیت پر پہنچے ام خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ ۔ ا ترجمہ تفسیر صغیر : ”کیا ان کو بغیر کسی غرض کے پیدا کیا گیا ہے یا وہ خود ہی اپنے خالق ہیں؟ کیا انہوں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے ؟ ( نہیں!) بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ ( خالق ارض و سماء پر یقین ہی نہیں رکھتے۔ کیا اُن کے پاس تیرے رب کے خزانے ہیں ؟ یا وہ دار و نھے ہیں ؟“