صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 122 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 122

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۱۲۲ ۶۵ - کتاب التفسير والطور والے آسمان کو گواہ ٹھہرایا گیا اور جوش مارتے ہوئے سمندر کو بھی جن دونوں کے مابین پانی مسخر کر دیا گیا ہے اور وہ زندگی کا سہارا بنتا ہے۔ ان تمام آسمانی گواہیوں کے ذکر کے بعد اللہ تعالیٰ یہ انذار فرماتا ہے کہ جس دن آسمان سخت لرزہ کھائے گا اور پہاڑوں جیسی بڑی بڑی دنیاوی طاقتیں اکھیڑ پھینکی جائیں گی اور سب دنیا میں پراگندہ ہو جائیں گی، اُس دن تکذیب کرنے والوں کے لئے دنیا ہی میں بہت بڑی ہلاکت ہو گی۔“ (ترجمه قرآن کریم حضرت خلیفة المسیح الرابع، تعارف سورۃ الطور ، صفحہ ۹۵۱) رق منشور کے معنی ہیں کھلا ہو اورق۔ فرمایا: فِي رَبِّ مَنْشُور (الطور :۴) یعنی (جو) کھلے ہوئے کاغذوں پر (لکھی گئی ہے۔) (ترجمہ تفسیر صغیر) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کھلے ہوئے کاغذوں سے مراد یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کے عمل کے مطابق جزدانوں میں رکھنے کے لئے نہیں۔ بلکہ سچا مسلمان اسے اس لئے گھر میں رکھتا ہے کہ ہر وقت پڑھتار ہے اور وہ ہر وقت کھلی رہے۔“ ( تفسیر صغیر ، سورہ طور، حاشیہ آیت ۴) وَالسَّقْفِ الْمَرْفُوعَ : امام بخاری نے سقف کے معنی سماء کئے ہیں۔ سماء بلندی کے علاوہ چھت کے معنوں میں بھی لغت میں بیان ہوا ہے۔ (اقرب الموارد - سقف) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہمیشہ بلند رہنے والی چھت سے بھی خانہ کعبہ مراد ہے اور مطلب یہ ہے کہ اس کی عزت خدا تعالیٰ ہمیشہ قائم رکھے گا۔“ (تفسیر صغیر، سورہ طور، حاشیہ آیت ۶) الْمَسْجُور - الْمُوقَد: یعنی جس کے نیچے آگ سلگائی جائے۔ سجد کے بنیادی معنی میں جوش اور بھڑکنے کا مفہوم ہے۔ نیز مَسْجُود میں آگ سلگانے کے معنی بھی ہیں اور البحر کے قرینہ کی وجہ سے جوش مارنے والے سمندر کے معنی بھی لئے گئے ہیں۔ (مقاييس اللغة - سجر ) آیت کریمہ وَالْبَحْرِ الْمَسْجُورِ (الطور:۷) کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قرآن کریم سمندر کو علوم روحانیہ کا نشان قرار دیتا ہے۔ پس جوش مارنے والے سمندر سے مراد علوم قرآنی ہیں جو ہمیشہ ظاہر ہوتے رہیں گے اور اسلام کی صداقت ثابت کرتے رہیں گے۔“ (تفسیر صغیر، سورہ طور، حاشیہ آیت ۷)