صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 121
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۱۲۱ ٥٢ سُورَةُ وَالطُّورِ۔۶۵ - کتاب التفسير والطور وَقَالَ قَتَادَةُ مَسْطُورٍ (الطور : ۳) مَكْتُوب اور قتادہ نے کہا: مسطور کے معنی ہیں لکھی ہوئی۔وَقَالَ مُجَاهِدٌ الطُّورُ الْجَبَلُ بِالسُّرْيَانِيَّةِ اور مجاہد نے کہا: خطور سریانی میں پہاڑ کو کہتے ہیں۔رَةٍ مَّنشُورٍ (الطور : ٤) صَحِيفَةٍ وَالسَّقْفِ رَيٌّ منشور کے معنی ہیں کھلا ہو اور ق۔اور السقف المرفوع (الطور : (٦) سَمَاء الْمَسْجُورِ الْمَرْفُوع سے مراد آسمان ہے۔المَسجُورِ کے معنی : (الطور : ٧) الْمُوقَدِ ، وَقَالَ الْحَسَنُ ہیں جس کے نیچے آگ سلگائی گئی۔اور حسن نے تُسْجَرُ حَتَّى يَذْهَبَ مَاؤُهَا فَلَا يَبْقَى کہا: (مسجود کے یہ معنی ہیں کہ) اسے آگ سے اتنا گرم کیا گیا ہو کہ اس کا پانی سوکھ جائے اور اس فِيهَا قَطْرَةٌ۔وَقَالَ مُجَاهِدٌ : التُنْهُمُ میں ایک قطرہ بھی نہ رہے۔اور مجاہد نے کہا: (الطور : ٢٢) نَقَصْنَاهُمْ۔وَقَالَ غَيْرُهُ التنهم کے معنی ہیں ہم نے اُن سے کمی کی۔اور تمور ( الطور: ١٠) تَدُورُ۔أَحلامُهُم (مجاہد کے سوا) اوروں نے کہا: تہور کے معنی ہیں (الطور: ٣٣) الْعُقُولُ۔وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسِ چکر کھائے گا۔اخلامُهُمُ ان کی عقلیں۔اور حضرت البر (الطور: ٢٩) اللطيف، كسفا ابن عباس نے کہا: البر کے معنی ہیں مہربان۔کسفا (الطور : ٤٥) قِطْعًا۔المَنُونِ (الطور : ۳۱) یعنی ٹکڑا - المنون کے معنی ہیں موت۔اور (حضرت الْمَوْتِ۔وَقَالَ غَيْرُهُ يَتَنَازَعُونَ ابن عباس کے سوا) اوروں نے کہا: يَتَنَازَعُونَ (الطور : ٢٤) يَتَعَاطَوْنَ۔کے معنی ہیں ایک دوسرے سے لیں گے۔تشریح : حضرت خلیفة الحج الرائی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں: اس سورت کا آغاز بھی آسمانی گواہیوں سے کیا گیا ہے۔سب سے پہلے تو ظور کی گواہی ہے جس پر حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کو ان سے بہت بلند تر رسول یعنی حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر دی گئی تھی۔پھر ایک ایسی لکھی ہوئی کتاب کی قسم کھائی گئی ہے جو چمڑے کے کھلے صحیفوں پر لکھی ہوئی ہے۔چونکہ پرانے زمانہ میں چمڑے پر لکھنے کا رواج تھا اس لئے وہ کتاب چمڑے کے صحیفوں پر لکھی ہوئی بتائی گئی ہے۔اور اس کتاب میں ہی بیت اللہ کی پیشگوئی موجود ہے جو متقیوں اور روحانیت سے معمور ہو گا۔اور ایک دفعہ پھر اونچی چھت