صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 120 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 120

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۱۲۰ ۶۵ - کتاب التفسير والذريت لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے اندرونی عمرہ کو دور کرے، ورنہ اندیشہ ہے کہ دوسری صفات حسنہ کو بھی نہ کھو بیٹھے۔“ (ملفوظات جلد اول صفحہ ۸۶٬۸۵) تَوَاصَوا - تَوَاطَئُوا : یعنی وہ آپس میں متفق ہو گئے۔پوری آیت یہ ہے: أَتَوَاصَوْا بِهِ بَلْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُونَ (اللو یت:۵۴) یعنی کیا وہ اس بات کے کہنے) کی ایک دوسرے کو وصیت کر گئے تھے ؟ ( ہرگز نہیں) بلکہ وہ سب کے سب سرکش لوگ ہیں۔(اسی لئے ایک ہی قسم کے گندے خیال ان کے دل میں پیدا ہوتے ہیں) (ترجمہ تفسیر صغیر) حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ اس آیت کے حاشیہ میں فرماتے ہیں: ”سب مخالف انکار کی ایک ہی قسم کی دلیلیں دیتے تھے۔گویا کہ وہ ایک دوسرے کو سکھا گئے تھے کہ اس طرح نبیوں کا انکار کرنا۔“ ( تفسیر صغیر، سورۃ الذاریات، حاشیہ آیت ۵۴) قيل - لعن: سورۃ الذاریات میں لفظ قتل جس آیت کریمہ میں آیا ہے وہ یہ ہے: قُتِلَ الْخَرْصُونَ (التويت: 11) یعنی اٹکل پچھ باتیں کرنے والے ہلاک ہو گئے۔امام بخاری نے سورۃ الذاریات کی تفسیر میں سورۃ عبس کی آیت قتلَ الْإِنْسَانُ (عبس: ۱۸) کا حوالہ دے کر قتل کے معنی لین بیان کئے ہیں۔یعنی انسان پر لعنت کی گئی۔حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”قتل صرف بد دعایا کو سنا نہیں ہے، بلکہ ہر متکبر کفران نعمت کرنے والے کیلئے پیشگوئی ہے۔حدیث شریف میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تکبر میری چادر ہے جو مجھ سے میری چادر چھینے گا میں اسے ذلیل کروں گا۔یہی قتل ہے۔“ ( حقائق الفرقان، جلد ۴ صفحه ۳۲۹،۳۲۸)