صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 119
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۱۱۹ ۶۵ - كتاب التفسير / والذريت اس میں خدا نظر آئے گا۔ غرض حالت تعبد کی درستی کا نام عبادت ہے۔“ نیز آپ نے فرمایا: ( ملفوظات جلد اول صفحه ۳۴۷) صل غرض انسان کی خلقت کی یہ ہے کہ وہ اپنے ربّ کو پہچانے اور اس کی فرمانبرداری کرے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (اللریت: ۵۷) میں نے جن اور انس کو اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔ مگر افسوس کی بات ہے کہ اکثر لوگ جو دنیا میں آتے ہیں بالغ ہونے کے بعد بجائے اس کے کہ اپنے فرض کو سمجھیں اور اپنی زندگی کی غرض اور غایت کو مد نظر رکھیں، وہ خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر دنیا کی طرف مائل ہو جاتے ہیں اور دنیا کا مال اور اس کی عزتوں کے ایسے دلدادہ ہوتے ہیں کہ خدا کا حصہ بہت ہی تھوڑا ہوتا ہے اور بہت لوگوں کے دل میں تو ہوتا ہی نہیں۔ وہ دنیا ہی میں منہمک اور فنا ہو جاتے ہیں۔ انہیں خبر بھی نہیں ہوتی کہ خدا بھی کوئی ہے۔ ہاں اس وقت پتہ لگتا ہے جب قابض ارواح آکر جان نکال لیتا ہے۔“ ( ملفوظات جلد ۴ صفحہ ۱۳۷) في غمرة : وہ اپنی گمراہی میں بڑھے چلے جارہے ہیں۔ پوری آیت یہ ہے : الَّذِينَ هُمْ فِي غَيْرَةٍ سَاهُونَ ) (اللونت: ۱۲) یعنی جو گمراہی کی گہرائیوں میں پڑے ہوئے حق کو بھلا رہے ہیں۔ (ترجمہ تفسیر صغیر) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ کفار کا حال بیان کرتا ہے کہ ستیاناس ہو گیا اٹکل بازیاں کرنے والوں کا، جن کے نفوس عمرہ میں پڑے ہوئے ہیں۔ عمرہ دبانے والی چیز کو کہتے ہیں جو سر اُٹھانے نہ دے۔ کھیت پر بھی عمرہ پڑتا ہے جسے کرنڈ کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انکل بازیاں کرنے والوں کا ستیا ناس ہو گیا۔ ہنوز ان کے نفوس عمرہ میں پڑے ہوئے ہیں۔ مومنوں کو اس آیت میں ایک نظیر دے کر متنبہ کیا جاتا ہے کہ جب تک عمرہ دور نہ ہو تو علی وجہ البصیرت کام نہیں ہو سکتا اور وہ اُولو الابصار نہیں کہلاتے۔ جس طرح کسان کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس عمرہ کو دور کرے ور نہ اس کا نتیجہ دوسرے پودوں پر اچھا نہیں ہو گا۔ اسی طرح ہر ایک انسان کے