صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 118
صحیح البخاری جلد ۱۲ IIA ۶۵ - کتاب التفسير والذريت اس آیت کے حاشیہ میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس آیت کریمہ میں بائیں کا لفظ اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان کو بناتے ہوئے اس میں بے شمار فوائد رکھ دیئے ہوئے ہیں اور ساتھ ہی یہ ذکر بھی فرما دیا کہ اسے ہم وسیع تر کرتے چلے جائیں گے۔اس کا یہ حصہ کہ ہم اسے مزید وسعتیں دیتے چلے جائیں گے ایک عظیم الشان اعجازی کلام ہے جو عرب کا ایک اُمّی نبی اپنی طرف سے ہر گز بیان نہیں کر سکتا تھا۔یہ امر سائنسدانوں نے جدید آلات کی مدد سے اب دریافت کیا ہے کہ یہ کائنات ہر لمحہ وسعت پذیر ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تو ہر انسان کو ایک جامد اور ٹھہری ہوئی کائنات دکھائی دیتی تھی۔“ (ترجمہ قرآن کریم حضرت خلیفہ المسیح الرابع، سورۃ الذاریات، حاشیہ صفحہ ۹۴۹) إِلا لِيَعْبُدُونِ: مَا خَلَقْتُ أَهْلَ السَّعَادَةِ مِنْ أَهْلِ الْفَرِيقَيْنِ إِلَّا لِيُوَخِدُونِ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ خَلَقَهُمْ لِيَفْعَلُوا فَفَعَلَ بَعْضُ وَتَرَكَ بَعْضُ وَلَيْسَ فِيهَا حُجةٌ لِأَهْلِ الْقَدَرِ یعنی ان دو فریقوں میں سے جو سعادت مند ہیں، میں نے ان کو صرف اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میری توحید بیان کریں۔اور بعض نے کہا کہ ان کو ایسا کرنے کے لئے پیدا کیا تھا مگر بعض نے کیا اور بعض نے نہ کیا۔اور قدریوں کے لئے اس میں کوئی دلیل نہیں۔فرماتا ہے: وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (اللہیت: ۵۷) یعنی اور میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”انسان کی پیدائش کی علت غائی یہی عبادت ہے۔جیسے دوسری جگہ فرمایا ہے: وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (اللہیت:۵۷) عبادت اصل میں اس کو کہتے ہیں کہ انسان ہر قسم کی قساوت، کجھی کو دور کر کے دل کی زمین کو ایسا صاف بنا دے، جیسے زمیندار زمین کو صاف کرتا ہے۔عرب کہتے ہیں: مَوْرٌ مُعبد۔جیسے سُرمہ کو باریک کر کے آنکھوں میں ڈالنے کے قابل بنا لیتے ہیں۔اسی طرح جب دل کی زمین میں کوئی کنکر ، پتھر ، ناہمواری نہ رہے اور ایسی صاف ہو کہ گویا رُوح ہی رُوح ہو۔اس کا نام عبادت ہے۔چنانچہ اگر یہ درستی اور صفائی آئینہ کی جاوے تو اس میں شکل نظر آجاتی ہے اور اگر زمین کی کی جاوے تو اُس میں انواع و اقسام کے پھل پیدا ہو جاتے ہیں۔پس انسان جو عبادت کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔اگر دل صاف کرے اور اس میں کسی قسم کی کجی اور ناہمواری، کنکر، پتھر نہ رہنے دے تو