صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 117 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 117

صحیح البخاری جلد ۱۲ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ۱۱۷ ۶۵ - كتاب التفسير والذريت جس قدر تغییرات اجسام پر آتے ہیں انسان زیادہ تر ان سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا کیونکہ جسمانی چیزیں جلد تر عادت میں داخل ہو جاتی ہیں لیکن روح کے تغیرات خاص کر مجاہدات کے وقت میں اور عالم کشف کی حالتیں ایسی عجیب ہیں کہ انسان کو گویا خدا تعالیٰ کا چہرہ دکھا دیتی ہیں اور معرفت کی منازل کو طے کرنے والے ہر ایک اپنے مرتبہ ترقی کے وقت محسوس کرتے ہیں کہ ان کی پہلی حالت روح کی گویا ایک موت تھی اور جو دوسری حالت میں روح کو علم اور ادراک کا حصہ نصیب ہوا وہ پہلی حالت میں ہر گز نہ تھا بلکہ ظاہری علوم کی تحصیل کرنے والے بھی اس بات کے قائل ہو سکتے ہیں کہ روح بچپن کی حالت میں کسی نیند میں غرق تھی اور جب اس کو بہت سے علوم سے حصہ ملا تو کیسی نئی روشنی اس کے اندر آگئی۔“ آپ نے اس کی وضاحت میں مزید یہ بھی فرمایا کہ چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ حاشیه صفحه ۱۶۶) روحوں پر غور کر کے جلد تر انسان اپنے رب کی شناخت کر سکتا ہے۔ جیسا کہ ایک حدیث میں بھی ہے کہ مَنْ عَرَفَ نَفْسَهُ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّۂ یعنی جس نے اپنے نفس کو شناخت کر لیا اُس نے اپنے رب کو شناخت کر لیا۔“ چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۱۶۶، ۱۶۷) فصلت کے معنی ہیں اپنی انگلیاں جوڑ کر اُن سے اپنی پیشانی کو مارا۔ پوری آیت یہ ہے : فَأَقْبَلَتِ امْرَأَتُهُ فِي صَرَةٍ فَصَلَّتْ وَجْهَهَا وَ قَالَتْ عَجُوزٌ عَقِيمٌ ( اللديت : :۳۰) یعنی اتنے میں اس کی بیوی آگے آئی جس کے چہرہ پر شرم کے آثار تھے۔ پس اس نے زور سے اپنے ہاتھ چہرے پر مارے اور بولی: میں تو ایک بانجھ بڑھیا ہوں۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ اس آیت کے حاشیہ میں فرماتے ہیں: قرآن مجید کہتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بیوی فی صرة آئی۔ اور لغت میں صرة کے ایک معنی منہ کی سیاہی کے لکھے ہیں۔ پس مطلب یہ ہے کہ شرم وحیا سے اس کا چہرہ متغیر تھا۔ “ ( تفسیر صغیر، سورۃ الذاریات، حاشیہ آیت ۳۰) لمُوسِعُونَ : وسعت والے ہیں۔ پوری آیت یہ ہے : وَالسَّمَاء بَنَيْهَا بِايْدِ وَ إِنَّا لَمُوسِعُونَ ( الله يت: ۴۸) اور آسمانوں کو بھی ہم نے کئی صفات سے بنایا ہے اور ہم بڑی وسیع طاقت رکھتے ہیں۔ (ترجمہ تفسیر صغیر)