صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 116
صحیح البخاری جلد ۱۲ IM Σ ، ۶۵ - کتاب التفسير والذريت ذَنُوبَا سَبِيلًا۔صَرَّةٍ ( واللدیت: ۳۰) صَيْحَةٍ کے معنی ہیں چیخ چنگھاڑ۔عقیم وہ عورت ہے جو الْعَقِيمُ الَّتِي لَا تَلِدُ۔وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسِ جنتی نہیں۔اور حضرت ابن عباس نے کہا: محبت وَالْعُبُك (والد ریت:۸) اسْتِوَاؤُها و سے مراد آسمان کا آراستہ ہونا اور اس کی خوبصورتی (والثَّريت: وَ حُسْنُهَا۔في غمرة (والثريت: ١٢) فِي ہے- في عمر کے معنی ہیں وہ اپنی گمراہی میں ضَلَالَتِهِمْ يَتَمَادَوْنَ۔وَقَالَ غَيْرُهُ بڑھے چلے جارہے ہیں۔اور (مجاہد کے سوا) آوروں نے کہا: تواصوا کے معنی ہیں وہ آپس میں تواصوا (والثَّديت: ٥٤) تَوَاطَنُوا، وَقَالَ متفق ہو گئے۔اور اُن کے سوا اوروں نے یہ بھی غَيْرُهُ مُسَوَّمَةٌ (والثديت: ٣٥) مُعَلَّمَةً كيا: مُسَوَّمَةٌ کے معنی ہیں نشان زدہ۔یہ سیما کہا: مِنَ السّيمَا قُتِلَ الْإِنْسَانُ (عبس: ۱۸) سے نکلا ہے (یعنی نشان) قُتِلَ الْإِنْسَانُ کے معنی ہیں انسان پر لعنت ہوئی۔لُعِنَ۔تشریح :۔قَالَ عَلى عَلَيْهِ السَّلَامُ اللرِيتُ : علاء نے یہاں ایک بحث یہ اٹھائی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لئے علیہ السّلام کا لفظ استعمال ہوا ہے جبکہ عام طور پر صحابہ کے لئے رضی اللہ عنہ کا استعمال ہوتا ہے۔دراصل یہ ایک اصطلاح ہے جو بالعموم انبیاء کے لئے استعمال ہوتی ہے مگر کسی دوسرے کے لئے منع نہیں ہے۔اس لئے امام بخاری نے علیہ السّلام کا استعمال غیر نبی کے لئے دکھا کر اس غلطی کا ازالہ کیا ہے اور اس اصطلاح کو محدود کرنے کی بجائے غیر انبیاء کے لئے اس کا جواز مہیا کیا ہے۔امام بخاری کی یہ رائے درست معلوم ہوتی ہے جیسا کہ التحیات کی معروف دعا میں یہ الفاظ ہیں: السّلامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ الله الصَّالِحِين۔۔(بخاری ، کتاب الاذان، باب التشهد في الآخرة) تندوہ کے معنی ہیں اس کو بکھیر دیتی ہیں۔اس لفظ کو سورۃ کے نام حریت کی مناسبت سے یہاں ذکر کیا ہے۔آیت یہ ہے: وَاضْرِبُ لَهُم مَّثَلَ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا كَمَاء انْزَلْنَهُ مِنَ السَّمَاءِ فَاخْتَلَطَ بِهِ نَبَاتُ الْأَرْضِ فَاصْبَحَ هَشِيمًا تذرُوهُ الرِّيحُ وَكَانَ اللهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ مُقْتَدِرًا (الكهف: ۴۶) اور تُو اُن کے سامنے اس ورلی زندگی کی حالت (بھی) کھول کر بیان کر ( کہ وہ) اس پانی کی طرح (ہے) جسے ہم نے بادل سے برسایا، پھر اس میں زمین کی روئیدگی مل گئی۔پھر (آخر) وہ (بھوسے کا) چورا بن گئی۔جسے ہوائیں اُڑاتی (پھرتی ہیں اور اللہ ہر بات پر قدرت رکھنے والا ہے۔وَفِي أَنْفُسِكُمْ أَفَلَا تُبْصِرُونَ : یعنی کیا تم اپنے نفسوں میں غور نہیں کرتے۔امام بخاری نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے جسمانی حالت کی ایک مثال دی ہے۔قرآنِ کریم میں لفظ نفس جسمانی اور روحانی ہر دو معانی میں بیان ہوا ہے۔جیسا کہ آیت کریمہ وَلَا تُخْرِجُونَ انْفُسَكُم (البقرة: ۸۵) میں یہ لفظ جسم اور اَخْرِجُوا أَنْفُسَكُمُ (الأنعام:۹۴) میں روح کے مفہوم میں ہے۔