صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 114
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۱۱۴ ۶۵ - كتاب التفسير ق آئینہ بنے اور اس کا وجود تسبیح و تحمید کا مظہر ہو۔ رکوع اور سجود میں سُبحان رَبِّي الْعَظِيمُ اور سُبْحَانَ رَبِّي الأَعْلیٰ کا ورد نمازی کی زبان سے اس لئے دہرایا جاتا ہے کہ اس کو توجہ دلائی جائے کہ وہ اپنے رب کی تسبیح اور تحمید کے اقرار میں اسی وقت راستباز ٹھہرے گا جب وہ اپنے نفس کے اندر اسی قسم کی سبوحیت پیدا کرے جو ہر مخلوق میں ظاہر ہے۔“ صحیح بخاری ترجمه و شرح کتاب الاذان، باب الدعاء في الركوع، جلد دوم صفحہ ۱۹۱) سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ كَمَا تَرَوْنَ هَذَا لَا تُضَامُونَ فِي رُؤْيَتِهِ : یعنی تم بھی عنقریب اپنے رب کو اس ط کو اس طرح دیکھو گے جس طرح اس کو دیکھ رہے ہو۔ اس کے دیکھنے میں تمہیں کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔ حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب رضی اللہ عنہ اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: حدیث میں جو تشبیہ دی گئی ہے وہ رؤیت یعنی دیکھنے کی ہے نہ ذات باری تعالیٰ کی۔ لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْء (الشوری: ۱۲) اس کی مانند کوئی شی نہیں۔ اور اس رؤیت کا ادراک اس دنیا میں اور ان آنکھوں سے کرنا نا ممکن ہے۔ لا تُضامون میم کی شد سے ہو تو مصد رحم سے ہے جس کے معنی اجتماع و ازدحام کے ہیں اور اگر میم پر شد نہ ہو تو ضیم سے ہے جس کے معنی تکلیف کے ہیں۔ یعنی جس طرح سورج کو دیکھنے سے آنکھوں کو تکلیف ہوتی ہے ، دیدار الہی سے تکلیف نہ ہو گی۔“ ( صحیح بخاری ترجمه و شرح کتاب مواقيت الصلاة، باب فَضْلُ صَلَاةِ الْعَصْرِ ، جلد اول صفحہ ۶۵۰) فَإِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لَّا تُغْلَبُوا کی تشریح میں حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں: صبح اور عصر کی نمازیں ایسے اوقات میں واقع ہوئی ہیں جن میں نیند یا کاروبار کا غلبہ ہوتا ہے۔ دونوں حالتوں میں انسان کے غافل ہونے کا اندیشہ ہے۔ پس جو شخص عام موانع کا مقابلہ کر کے اللہ تعالیٰ کی مناجات کے لئے وقت پر حاضر ہو جاتا ہے وہ اپنے شوق و اخلاص کا ثبوت دیتا ہے۔ روزِ جزا کو اس مناجات کے بدلے میں اسے دیدار الہی نصیب ہو گا۔“ ( صحیح بخاری ترجمه و شرح کتاب مواقيت الصلاة، باب فضل صَلَاةِ الْعَصْرِ ، جلد اول صفحہ ۶۵۰)