صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 113
صحیح البخاری جلد ۱۲ ١١٣ ۶۵ - کتاب التفسیر / ق ٤٨٥٢ : حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ :۴۸۵۲ آدم ( بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ که در قاء نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابن ابی نجیح قَالَ ابْنُ عَبَّاسِ : أَمَرَهُ أَنْ يُسَبِّحَ فِي سے، ابن ابی نجیح نے مجاہد سے روایت کی۔انہوں أَدْبَارِ الصَّلَوَاتِ كُلّهَا يَعْنِي قَوْلَهُ نے کہا کہ حضرت ابن عباس نے کہا: ( اللہ تعالٰی وَأَدْبَارَ السُّجُودِ (ق: ٤١) نے آپ کو حکم دیا ہے کہ تمام نمازوں کے پیچھے تسبیح کیا کریں۔یعنی اللہ تعالیٰ کے قول و ادبار السُّجُودِ سے یہی مراد ہے۔تشريح: وَسَبِّحْ بِحَمدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ الْغُرُوبِ : یعنی سورج نکلنے سے پہلے اور ڈوبنے سے پہلے تو اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح بیان کر۔زیر باب دو روایات بیان کر کے معنونہ آیت کے حوالہ سے اس طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ نمازوں کے قیام میں بھی اور ان کے بعد کے اوقات میں بھی تسبیح و تحمید کا خاص اہتمام رکھنا چاہیئے۔حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: "قرآن مجید میں جہاں بھی تسبیح کا حکم دیا گیا ہے وہاں بِحمدِ ربك فرما کر تحمید کا بھی حکم دیا ہے۔تسبیح کے معنی ہیں اللہ تعالیٰ ہر نقص سے پاک اور ہر عیب سے منزہ و مبراء ہے اور تحمید کے معنی ہیں کہ وہ تمام اعلیٰ صفات سے متصف ہے۔تسبیح میں نفی کا پہلو ہے اور تحمید میں اثبات کا۔محض نقائص کی نفی کوئی خوبی نہیں، جبکہ اس کے ساتھ صفاتِ عالیہ کا بھی اظہار نہ ہو۔قرآن مجید فرماتا ہے: وَاِن من شَيْءٍ الْايُسَبِّحُ بِحَمدِه (بنی اسرائیل: ۴۵) یعنی ہر شے اس کی حمد کے ساتھ اس << کی تسبیح کر رہی ہے۔”انسان سے جو بالا رادہ کام کرنے والی ہستی ہے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ بھی اور مخلوق کی طرح تسبیح و تحمید میں مشغول ہو۔مگر وہ صحیح معنوں میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تحمید کے لائق نہیں ہوتا جب تک کہ وہ گناہوں سے پاک ہو کر آئینہ دار مورد تجلیات الہیہ نہیں ہو جاتا۔یہی وجہ ہے کہ اس کو تسبیح و تحمید کے ساتھ ہی استغفار کا حکم بھی دیا گیا ہے۔انسان کو ایسی فطرت دی گئی ہے کہ وہ تزکیہ نفس حاصل کر کے صفات الہیہ کا