صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 112
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۶۵ - کتاب التفسیر / ق ۳ باب ۲۵۔خدا کے چند پیارے کھلے آگ میں پھرتے تھے اور آگ انہیں نہیں جلاتی تھی۔اور قانون قدرت میں دیکھو آگ ذرات عالم کو نہیں جلا سکتی۔آگ کا کام تو چند اشیاء کے جلانے کا ہے۔وہ اشیاء جو الہی مخلوق ہیں۔نہ خالق کے جلانے کا۔“ (فصل الخطاب حصہ اول ایڈیشن دوم صفحہ ۱۸۹ تا ۱۹۴) بَاب ۲ : وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوبِ (3: ٤٠) سورج نکلنے سے پہلے اور ڈوبنے سے پہلے تو اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح بیان کر ٤٨٥١ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ :۴۸۵۱: اسحاق بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا۔عَنْ جَرِيرٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ عَنْ قَيْسِ انہوں نے جریر (بن عبد الحمید) سے، جریر نے بْنِ أَبِي حَازِمٍ عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ اسماعیل بن ابی خالد ) سے، اسماعیل نے قیس بن قَالَ كُنَّا جُلُوسًا لَيْلَةً مَعَ النَّبِيِّ الى حازم سے ، قیس نے حضرت جریر بن عبد اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَظَرَ إِلَى الْقَمَرِ (بجلی) سے روایت کی۔انہوں نے کہا: ہم ایک لَيْلَةَ أَرْبَعَ عَشْرَةَ فَقَالَ إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے رَبَّكُمْ كَمَا تَرَوْنَ هَذَا لَا تُضَامُونَ فِی تھے۔آپ نے چودھویں رات کے چاند کو دیکھا۔رُؤْيَتِهِ فَإِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لَّا تُغْلَبُوا عَلَى آپؐ نے فرمایا: تم بھی عنقریب اپنے رب کو اس صَلَاةٍ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْس وَقَبْلَ طرح دیکھو گے جس طرح اس کو دیکھ رہے ہو۔غُرُوبِهَا فَافْعَلُوا ثُمَّ قَرَأَ وَسَبِّحْ اس کے دیکھنے میں تمہیں کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ اگر تم سے ہو سکے کہ سورج نکلنے سے پہلے کی نماز اور سورج ڈوبنے سے پہلے کی نماز کے ادا کرنے میں ایسے بے بس نہ ہو جاؤ ( کہ تم سے جاتی رہے) تو ضرور کوشش کرو (کہ وہ جانے نہ پائے۔) پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: سورج نکلنے سے پہلے اور ڈوبنے سے پہلے تو اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح الْغُرُوبِ (ق: ٤٠) بیان کر۔أطرافه ،٥٥٤ ، ٥۷۳، ٧٤٣٤ ٧٤٣٥، ٧٤٣٦- ہو۔