صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 111 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 111

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۶۵ - كتاب التفسیر / ق دیکھو ان محاورات میں لغوی معنوں میں قدم کا لفظ نہیں بولا گیا بلکہ مجازی معنوں میں۔پس حدیث کے یہ معنی ہوئے کہ یہاں تک کہ خدا جہنم کو ذلیل و خوار کر ڈالے اور 35 اسے چپ کرا دے۔ہاں یہ محاورہ اس خطبہ میں بھی آیا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری حج میں بمقام عرفات پڑھا وَ دِمَاءُ الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعَةٌ تَحْتَ قَدَى جواب نمبر ۶: یہ جواب گو الزامی جواب ہے مگر ہم نے اس بارہ میں مسیح کے اس قول کی پیروی کی ہے کہ الزام مت لگاؤ تا کہ تم پر الزام نہ لگایا جاوے“ اور نیز الزامی جواب اس لئے بھی اختیار کیا جاتا ہے کہ معترض اپنی مسلمہ و ما کوفہ کتابوں سے اس قسم کے اشتباہ کو رفع کرے۔اب جواب سنئے۔مسیحی اعتقاد میں مسیح ملعون ہوا ( نعوذ باللہ ) اور ملعون کا ٹھکانہ جہنم ہے۔دیکھوحل الاشکال اور پولوس نامئہ گلتیان ۳ باب ۱۳۔جو کا ٹھ پر لٹکا یا جاوے وہ ملعون ہے۔اور نیز مسیحی اعتقاد میں مسیح خدا ہیں اور رب العزت بھی ہیں۔(صاحب عزت) پس معنے یہ کہ جہنم کو تسکین نہ ہو گی جب تک عیسائیوں کے خدا اس میں قدم نہ رکھیں۔اب سارے جو ابوں کی آپ ہی کوشش کریں۔حاصل الامر چونکہ پادری صاحب نے حدیث کا مطلب غلط سمجھا اور بطور بنائے فاسد على الفاسد اس سے غلط استنباطات کئے۔پس ان کے اعتراض کے باقی شقوق بھی بیکار و معطل ہو گئے۔اس لئے ہمیں ان شقوق پر فضول خامہ فرسائی کرنے کی ضرورت نہیں۔کیونکہ فاسد مقدمہ کا نتیجہ لا بد فاسد ہی ہوا کرتا ہے۔اگر قدم کے معنی پاؤں لیں جیسے عام مشہور ہے تب بھی اعتراض نہیں رہتا۔اور عیسائی مذہب کے طور پر ہر گز محل اعتراض نہیں۔دیکھو خروج ۱۳ باب ۲۱۔خدا آگ کے ستونوں میں اور خروج ۱۹ باب ۱۸ اور استثناء ا باب ۳۳۔آگ کو خدا کا قدم نہ جلانے میں بخلاف اور لوگوں کے بے ریب امتیاز ہے۔دیکھو استثناء ۴ باب ۱۲ پہاڑ جلا پر خدانہ جلا۔اور استثناء ۴ باب ۳۶ میں۔خدا آگ میں کلام سناتا تھا۔اور دیکھو دانیال یعنی جاہلیت کے خون میرے قدم کے نیچے رکھے گئے ہیں۔المنتقى لابن الجارود، كتاب المَناسِكِ، بَابُ الْمَنَاسِكِ، صفحه ۱۲۳)