صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 110
صحیح البخاری جلد ۱۲ 11+ ۶۵ - کتاب التفسیر / ق مشکوۃ صفحہ ۴۹۶۔کہ حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ دوزخ میں ایک وادی ہے اس کا نام ہب ہب ہے۔اس کی تسکین کا باعث ہر ایک جبار ہو گا۔اس کے آخری جملہ کے الفاظ یہ ہیں: يُسَكِّنُهُ كُلُّ جَبَّارٍ۔جواب نمبر :۳: بعض روایات میں اگر آیا ہے۔حَتَّى يَضَعَ اللهُ فِيهَا قَدَمَهُ۔اول تو یہ روایت حدیث کے اعلیٰ طبقہ کی روایت نہیں۔کیونکہ اس میں روایت بالمعنی کا احتمال ہے۔اگر مان بھی لیا جاوے۔قدم سے مراد اشرار ہیں، پاؤں نہیں۔دیکھو قاموس اللغہ: قَدَمَهُ أَلَى الَّذِينَ قَلَمُهُمْ من الأَشْرَارِ فَهُمْ قَدَمُ الله لِلنَّارِ كَمَا أَنَّ الْخيَارَ قَدَ مُهُ لِلْجَنَّةِ یعنی قدم سے مراد وہ شریر لوگ ہیں جن کو خدا نے دوزخ کے آگے دھر دیا۔پس وہ لوگ خدا کی طرف سے آگ کے لئے آگے کئے گئے جیسے اچھے لوگ خدا کی طرف سے جنت کی جانب آگے گئے گئے۔پس حدیث کے یہ معنی ہوئے کہ دوزخ هَلْ مِن مزید پکارتی رہے گی جب تک خدا اشرار کو اس میں نہ ڈالے گا۔پھر وہ بس کرے گی۔جواب نمبر ۴: وَضُعُ الْقَدَمِ مَثَلٌ لِلرَّوْعِ وَالْقمع۔یعنی وضع قدم ایک محاورہ ہے جس کے معنی ہیں روکنا اور تھام لینا۔اب حدیث کے یہ معنی ہوئے کہ ”یہاں تک اللہ تعالیٰ اپنی روک اور تھام رکھے گا اور ایسی روک کر دے گا کہ دوزخ هَلْ مِن مزید کہنے سے رُک جائے گی۔“ جواب نمبر ۵: وَضَعُ الْقَدَمِ۔(پاؤں رکھ دینا) ذلیل اور خوار کرنے پر بولا جاتا ہے۔چونکہ عبری اور عربی قریب قریب زبانیں ہیں اور کتب مقدسہ میں بھی یہ محاورہ برتا گیا ہے بنظر ثبوت اتنا ہی بس ہے۔یسعیاہ ۳۷ باب ۲۵۔خدا فرماتا ہے: میں اپنے پاؤں کے تلووں سے مصر کی سب ندیاں سکھا دوں گا۔۲ سموئیل ۲۲ باب ۳۹۔ہاں وہ میرے قدموں تلے پڑے ہیں۔اسلاطین ۵ باب ۳ جب تک کہ خدا نے اُن کو اُس کے قدموں تلے نہ کر دیا۔لوقا ۲۰ باب ۴۳ و مرقس ۱۲ باب ۳۶۔جب تک تیرے دشمنوں کو تیرے پاؤں کی چوکی کروں۔1 (مشكوة المصابيح، کتاب احوال القيامة، باب صفة النار وأهلها، الفصل الثاني)