صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 109
صحیح البخاری جلد ۱۲ 1+9 ۶۵ - کتاب التفسیر / ق کو اذكرني عند ربك - سیپاره ۱۲ سوره یوسف، رکوع ۵۔کہ مجھے اپنے آقا کے رو برو یاد کرنا۔اور فرعون کہتا ہے انا ربکم الاعلی۔سیپارہ ۳۰، سورۃ النازعات، رکوع ۱۔میں تمہارا بڑا رب ہوں۔یہ لفظ عام بڑے بڑے رئیسوں اور امیروں پر بھی اطلاق ہوتا ہے اس لئے اس کی جمع ارباب سے امراء اور دنیادار مراد لئے جاتے ہیں۔اور ٹھیک اسی طرح عبرانی زبان میں بھی جسے عربی کے ساتھ مشابہت تامہ ہے اسن چناچہ ربی بڑے بڑے کاہنوں اور عالموں پر بولا جاتا ہے۔اور بعض جگہ جب کسی اسم کے ساتھ ترکیب میں مذکور ہوتا ہے جیسے مثلاً اسی جگہ رب العزة يا رب البيت يا رب المنزل اس وقت مرادف لفظ صاحب کے ہوا کرتا ہے۔مثلاً ہم کہہ سکتے ہیں صاحب العزة صاحب البيت، صاحب المنزل ، عزت والا ، گھر والا، منزل والا یا مالک منزل۔جواب نمبر ۲: اور عزت بمعنی حمیت، ضد جاہلیت ہے۔دیکھو قرآن میں ایک جگہ اس کا استعمال ہوا ہے۔اَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْإِثْمِ فَحَسْبُهُ جَهَنَّمُ۔یعنی جب اسے خدا سے ڈرنے کو کہا جاتا ہے تو اسے عزت (ضد و حمیت جاہلانہ ) گناہ پر آمادہ کرتی ہے۔پس ایسے کے لئے جہنم ہے۔اور عزیز کا لفظ جو اس سے مشتق ہوا ہے قرآن میں (سورہ دخان) شریر جہنمی پر جب جہنم میں ڈالا جائے گا بولا گیا ہے ذی اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيزُ الْكَرِيمُ 0 چکھ کیونکہ تو بڑی حمیت والا اور بزرگ بنا بیٹھا تھا۔اور عزیز اور رب العزۃ کے معنی ایک ہی ہیں۔ربّ العزۃ اس شخص سے مراد ہے جو دنیا میں متکبر اور جبار اور بڑا ضدی کہلاتا ہے۔اسی حدیث کی بعض روایات میں آیا ہے حَتَّى يَضْحَ فِيهَا الْجَبَّارُ قَدَمَهُ جبار اور رب العزۃ کے ایک ہی معنے ہیں۔یعنی متکبر ، سرکش ، حدود سے نکل جانے والا۔پس گویا دونوں روایتیں علی اختلاف الفاظ معنی واحد رکھتی ہیں۔اب حدیث کے معنی یہ ہوئے کہ دوزخ زیادہ طلبی کرتی رہے گی جب تک شریر متکبر اپنے تئیں عزیز جاننے والے اس میں اپنا پاؤں رکھیں یعنی داخل ہوں۔یاد رہے کہ اہل اسلام کے اعتقاد میں دوزخ شریروں اور بد ذاتوں کی جگہ ہے۔جیسا حدیث ذیل میں مذکور ہے۔