صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 108 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 108

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۱۰۸ ۶۵ - کتاب التفسیر / ق گا۔اور قدم رکھنے کے اصل معنی ہیں روک دینا۔اور بیخ کنی کر دینا۔جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاہلیت کے خون میرے قدم کے نیچے رکھے گئے ہیں۔یعنی میں ان کے انتقاموں سے قوم کو منع کرتا ہوں اور ان کو مسلتا ہوں۔رجل کے معنی قوم، جماعت۔عربی زبان میں آتا ہے رجُلٌ مِنْ جَرَادٍ یعنی ٹڈیوں کا ٹڈی دل جماعت۔اب کس قدر صاف معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ جہنم کو فرمائے گا کیا تو بھر چکی؟ وہ عرض کرے گی: کیا کچھ اور ہے ؟ تب اللہ شریروں اور ظالموں اور ان کی جماعت کو جو جہنم کے لائق ہیں سب کو جہنم میں ڈال دے گا۔خلاصہ مطلب یہ ہوا کہ نرگی اور جہنمی نرگ اور جہنم میں داخل کئے جاویں گے اور یہی انصاف و عدل ہے۔اب بتاؤ اس پر کیا اعتراض ہوا۔“ (نورالدین طبع سوم صفحہ ۲۷۸،۲۷۷) نیز حضرت خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ ایک پادری کے اعتراض کے جواب میں فرماتے ہیں: میں سچ سچ کہتا ہوں کہ حدیث ( يَضَعُ فِيهَا رَبُّ الْعِزَّةِ قَدَمَهُ) کا مطلب صاف اور درست ہے مگر زبان اور محاورہ عرب نہ جاننے کے سبب سے پادری صاحب اس بھول بھلیاں میں جا پڑے ہیں۔خود ان کے چالاک ہاتھوں کی کرتوت ہے۔اصل منشاء آپ کے اعتراض کا جملہ يَضَعُ فِيهَا رَبُّ الْعِزَّةِ قَدَمَهُ ہے۔جس کا ترجمہ ہے: رکھے گا اس میں عزت والا اپنے قدم۔اب ہم آپ کو ان الفاظ کا صحیح مطلب اور منشاء بتاتے ہیں جن سے آپ کو بوجہ عدم فہم زبان عرب دھو کہ ہوا ہے۔گو الفاظ تو صاف تھے اور محاورہ عرب کی طرف ذراہی سے رجوع کرنے سے با آسانی حل ہو سکتے تھے۔مگر چونکہ عادتا نصاریٰ کا خاصہ ہے کہ کسی کلام کا اصل مقصد عمد آیا جاہل آبدوں تو ضیح و تفسیر نہیں سمجھتے یا سمجھ نہیں سکتے۔اور یہ عادت نسلاً بعد نسل حضرات حوارین سے وراثت میں انہیں ملی ہے کہ وہ سادہ مزاج حضرات بھی مسیح کے کلام کو بدوں تفسیر و تمثیل سمجھ نہیں سکتے تھے۔اس لئے ضرور ہوا کہ ہم پوری تفسیر ان الفاظ کی کر دیں۔سنو! جواب نمبر 1: پہلا لفظ جس پر پادری صاحب کو دھو کہ ہو ا لفظ رت ہے۔سننا چاہیئے کہ رت کا لفظ بڑے بڑے آدمیوں پر بولا گیا ہے جیسے یوسف علیہ السلام کا قول اس زندانی