صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 107
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۶۵ - کتاب التفسیر / ق اور جو تم نے مفسروں کا قول نقل کیا ہے اس میں یہ ہے جہنم هَلْ مِن مزید کہتی رہے گی حَتَّى يَضَعَ رَبُّ الْعِزَّةِ قَدَمَهُ اور کہیں ہے : يَضَعُ الْجَبَّارُ قَدَمَهُ اور کہیں ہے : حَتَّى يَضَعَ الله رِجلَهُ۔پس قبل اس کے کہ تم کو مفصل جواب دیں ضروری معلوم ہوتا ہے کہ الفاظ ذیل کے معنی لغت عرب سے لکھ دیں۔جہنم ، رب، عزت، جبار، قدم، رجل۔ا جهنم : دوزخ، نرگ، عذاب کی جگہ۔ربّ کے معنی بڑا پالن ہار۔یہ لفظ اللہ تعالیٰ پر بھی بولا گیا ہے اور دنیا داروں، بڑے آدمیوں پر بھی۔فرعون نے کہا: انا ربکم الاعلى (النازعات: ۲۵) یوسف علیہ السلام نے ایک قیدی کو جو رہا ہونے والا تھا فرمایا کہ اذكرني عِندَ رَبِّكَ (يوسف:۴۳) یعنی اپنے مالک و امیر کے پاس میر اذکر کیجئیو۔اور اسی رب کی جمع ارباب ہے جس کے متعلق فرمایا کہ ارباب مُتَفَرِقُونَ خَيْرَ امِ اللهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُه (يوسف:۴۰) عزت، بڑائی ، حمایت، جاہلوں کی ہٹ۔قرآن شریف میں شریروں کے متعلق فرمایا: اخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْإِثْمِ فَحَسْبُهُ جَهَنَّمُ (البقرۃ: ۲۰۷) اور فرمایا ہے کہ جب شریر کو عذاب اور دُکھ دیا گیا تو کہا جائے گا ذقُ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْكَرِيمُ۔(الدخان: ۵۰) پس رب العزت کے یہ معنی بھی ہوئے متکبر ، ضدی، ہٹ والا۔۔جبار کے معنی مصلح کے بھی ہیں اور ظالم کے بھی۔مصلح کو تو عذاب ہو نہیں سکتا۔اور ظالم کے حق میں آیا ہے خَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِیدِ مشکوۃ صفحہ ۴۹۶ میں ہے۔ہب ہب دوزخ میں ایک وادی ہے اس میں جبار لوگ داخل ہوں گے۔ه قدم : جس شخص کو کہیں بھیجا جاوے اسے قدم کہتے ہیں۔قاموس اللغہ میں ہے: قَلَمُهُ أَى الَّذِيْنَ قَلَمُهُمْ مِّنَ الْأَشْرَارِ فَهُمْ قَدَمُ اللَّهِ لِلنَّارِ كَمَا أَنَّ الْخَيَارَ قَدَمُ الله لِلْجَنَّةِ وَوَضْعُ الْقَدَمِ مِثْلَ الزَّوْعِ وَالْقَمَعِ “ احادیث میں ہے دِماء الجاهلية موضوعة تحت قدمي۔۔قدم اس کا وہ بد لوگ ہیں جن کو وہ حسب ان کے اعمال کے آگ میں بھیجے گا۔جیسے کہ برگزیدہ لوگ بہشت کے لئے قدم اللہ ہیں۔یعنی وہ جنہیں حسب ان کے اعمال اللہ تعالیٰ بہشت میں بھیجے ا (مشکوۃ المصابیح، کتاب احوال القيامة، باب صفة النار وأهلها، الفصل الثاني)